طلباء کے ہنگاموں کو روکنے کیلئے پولیس نے گورنمنٹ کالج لاہور کے اندر داخل ہونا چاہا تو دبلے پتلے نحیف ڈاکٹر نذیر احمد نے مردِ آہن ہونے کا ثبوت دیا۔
مؤلف اور قسط کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 44
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت، نسل کشی مہم ختم کی جائے :اسحاق ڈار
کالج کی پہلی ملاقات
کالج میں داخل ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک روز ڈی پی آئی خواجہ نذیر احمد کی جانب سے بلائی گئی روورز سکاؤٹنگ کے پہلے اجلاس میں، خواجہ صاحب نے ایک ایک سے تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی روورز سکاؤٹ آئے ہوئے ہیں جنہیں لے کر ابھی وائس پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد ہمارے اس اجلاس میں پہنچ رہے ہیں۔ چند ہی لمحوں بعد ڈاکٹر نذیر احمد بھی غیر ملکی روورز سکاؤٹ کو لے کر اجلاس میں پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اسلام آباد بلدیاتی الیکشن سے فرار اختیار کر رہی ہے: لیاقت بلوچ
ڈاکٹر نذیر احمد کی شخصیت
غیر ملکی روورز سکاؤٹ کی نسبت اپنے وائس پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کو سکاؤٹ یونیفارم میں ملبوس دیکھ کر میں بے حد حیران ہوا۔ ڈاکٹر نذیر احمد کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ 55 سال کی عمر میں انہوں نے سکاؤٹنگ کی یونیفارم نِکر کے ساتھ پہنی ہوئی تھی اور جسمانی طور پر بھی ڈاکٹر صاحب نحیف اور منحنی شخصیت نظر آ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں اسرائیلی حملے سے شہادتوں کی تعداد 585 تک جا پہنچی، 1326 زخمی
سکاؤٹنگ کی اہمیت
ڈاکٹر نذیر احمد نے غیر ملکی سکاؤٹ کا ہم سے تعارف کروایا اور سکاؤٹنگ موومنٹ کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں خوبصورت انگریزی میں گفتگو کی۔ بعدازاں مہمان سکاؤٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کے الزم میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او کو ملزم قرار دے دیا گیا
ڈاکٹر نذیر احمد کی قیادت
6 ماہ بعد ہی گورنمنٹ کالج لاہورکے پرنسپل ڈاکٹر خواجہ منظور احمد علیگ کے ریٹائر ہونے پر ڈاکٹر نذیر احمد ہمارے کالج کے پرنسپل بن گئے۔ بعدازاں ڈاکٹر صاحب کو ہم نے کالج کے مختلف شعبہ جات، مجلس اقبال، انگلش لٹریری سرکل، میوزک کلب، ڈراماٹک کلب، طلباء کے مباحثوں اور سالانہ کھیلوں کی تقریبات میں ہمیشہ فعال پایا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مسجد قباء میں حاضری، نوافل کی ادائیگی اور امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں
علمی قابلیت
ڈاکٹر نذیر احمد ماہر علم حیوانات (زوالوجی)تھے۔ بعدازاں انہیں انگلش لٹریری سرکل اجلاسوں میں اظہار خیال کرتے ہوئے بارہا سنا تو محسوس ہوا کہ علمی اعتبار سے ڈاکٹر صاحب بڑا قد و کاٹھ رکھتے ہیں جو شیکسپیئر کے ڈراموں، انگریزی ادب کے کلاسیکل شعراء سے لیکر اْردو زبان کے شعراء تک عبور رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کے تاریخی اجرا میں بینک آف پنجاب کی شراکت
طلباء کے احتجاج کی قیادت
ایک دفعہ حکومت نے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کا تبادلہ گورنمنٹ کالج لاہور سے باہر غالباً گورنمنٹ کالج کوئٹہ کرنے کے احکامات جاری کیے، جس پر کالج طلباء نے شدید احتجاج کیا۔ طلباء نے احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلنا چاہا مگر ڈاکٹر نذیر احمد نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ کالج کے اندر رہ کر احتجاج کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی لاہور سے دوبارہ پشاور پہنچ گئیں
تقریری مقابلے کی تفصیلات
کالج یونین کی طرف سے گیارہویں جماعت کے طلباء کے لئے تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں تقریباً 20 طلباء نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں علی کاظم نے پہلا انعام حاصل کیا۔ میں اس مقابلے میں اپنی پْرانی عادت فی البدیہہ بولنے کی کوشش میں کافی پیچھے رہا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 3روزہ سرکاری دورے پر مصرروانہ
سیمینار کے نتائج
جب میں تھرڈ ائیر کا طالب علم تھا تو ہمارے کالج میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس کا موضوع ”قومی تعمیر نو میں طلباء کا کردار“ تھا۔ میں نے بھی اس سیمینار میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ اس سیمینار کا پہلا انعام سرمد صہبائی کو ملا اور مجھے کنسولیشن انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








