طلباء کے ہنگاموں کو روکنے کیلئے پولیس نے گورنمنٹ کالج لاہور کے اندر داخل ہونا چاہا تو دبلے پتلے نحیف ڈاکٹر نذیر احمد نے مردِ آہن ہونے کا ثبوت دیا۔
مؤلف اور قسط کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 44
یہ بھی پڑھیں: ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کے تعلیمی اداروں میں ایک نیا اسکینڈل سامنے آ گیا
کالج کی پہلی ملاقات
کالج میں داخل ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک روز ڈی پی آئی خواجہ نذیر احمد کی جانب سے بلائی گئی روورز سکاؤٹنگ کے پہلے اجلاس میں، خواجہ صاحب نے ایک ایک سے تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی روورز سکاؤٹ آئے ہوئے ہیں جنہیں لے کر ابھی وائس پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد ہمارے اس اجلاس میں پہنچ رہے ہیں۔ چند ہی لمحوں بعد ڈاکٹر نذیر احمد بھی غیر ملکی روورز سکاؤٹ کو لے کر اجلاس میں پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرخان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے
ڈاکٹر نذیر احمد کی شخصیت
غیر ملکی روورز سکاؤٹ کی نسبت اپنے وائس پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کو سکاؤٹ یونیفارم میں ملبوس دیکھ کر میں بے حد حیران ہوا۔ ڈاکٹر نذیر احمد کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ 55 سال کی عمر میں انہوں نے سکاؤٹنگ کی یونیفارم نِکر کے ساتھ پہنی ہوئی تھی اور جسمانی طور پر بھی ڈاکٹر صاحب نحیف اور منحنی شخصیت نظر آ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی استدعا پر جسٹس منصور کا علی امین گنڈاپور کو اہم مشورہ
سکاؤٹنگ کی اہمیت
ڈاکٹر نذیر احمد نے غیر ملکی سکاؤٹ کا ہم سے تعارف کروایا اور سکاؤٹنگ موومنٹ کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں خوبصورت انگریزی میں گفتگو کی۔ بعدازاں مہمان سکاؤٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: قصور، کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر کو دل کا دورہ، جان بچانے والا انجیکشن نہ مل سکا، پرائیویٹ ہسپتال سے منگوانا پڑا
ڈاکٹر نذیر احمد کی قیادت
6 ماہ بعد ہی گورنمنٹ کالج لاہورکے پرنسپل ڈاکٹر خواجہ منظور احمد علیگ کے ریٹائر ہونے پر ڈاکٹر نذیر احمد ہمارے کالج کے پرنسپل بن گئے۔ بعدازاں ڈاکٹر صاحب کو ہم نے کالج کے مختلف شعبہ جات، مجلس اقبال، انگلش لٹریری سرکل، میوزک کلب، ڈراماٹک کلب، طلباء کے مباحثوں اور سالانہ کھیلوں کی تقریبات میں ہمیشہ فعال پایا۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے لاکھوں کی رقم واپس لینے میں کامیاب ہوگیا، صارف کا دعویٰ
علمی قابلیت
ڈاکٹر نذیر احمد ماہر علم حیوانات (زوالوجی)تھے۔ بعدازاں انہیں انگلش لٹریری سرکل اجلاسوں میں اظہار خیال کرتے ہوئے بارہا سنا تو محسوس ہوا کہ علمی اعتبار سے ڈاکٹر صاحب بڑا قد و کاٹھ رکھتے ہیں جو شیکسپیئر کے ڈراموں، انگریزی ادب کے کلاسیکل شعراء سے لیکر اْردو زبان کے شعراء تک عبور رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس افتخار چودھری ہر مسئلہ پر ازخود نوٹس لے لیتے، لیکن شوگر مل مالکان نے ججوں کو مسخر کر لیا، اصل مسئلہ کی سمجھ ہی آنے نہیں دی
طلباء کے احتجاج کی قیادت
ایک دفعہ حکومت نے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کا تبادلہ گورنمنٹ کالج لاہور سے باہر غالباً گورنمنٹ کالج کوئٹہ کرنے کے احکامات جاری کیے، جس پر کالج طلباء نے شدید احتجاج کیا۔ طلباء نے احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلنا چاہا مگر ڈاکٹر نذیر احمد نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ کالج کے اندر رہ کر احتجاج کریں۔
یہ بھی پڑھیں: حنا ربانی کھر کا بیان: بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کا جائزہ
تقریری مقابلے کی تفصیلات
کالج یونین کی طرف سے گیارہویں جماعت کے طلباء کے لئے تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں تقریباً 20 طلباء نے حصہ لیا۔ اس مقابلے میں علی کاظم نے پہلا انعام حاصل کیا۔ میں اس مقابلے میں اپنی پْرانی عادت فی البدیہہ بولنے کی کوشش میں کافی پیچھے رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آج بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ سامنے آیا، شرجیل میمن
سیمینار کے نتائج
جب میں تھرڈ ائیر کا طالب علم تھا تو ہمارے کالج میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس کا موضوع ”قومی تعمیر نو میں طلباء کا کردار“ تھا۔ میں نے بھی اس سیمینار میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ اس سیمینار کا پہلا انعام سرمد صہبائی کو ملا اور مجھے کنسولیشن انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








