مغوی رکن اسمبلی شدید زخمی حالت میں کھیتوں سے مل گیا، حالت تشویشناک
کینیا کے رکنِ پارلیمنٹ کا اغواء
نیروبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کینیا کے ایک رکنِ پارلیمنٹ جارج کوئمبوری، جو اتوار کو چرچ سے واپسی پر مبینہ طور پر اغوا کر لیے گئے تھے، ایک کافی فارم سے شدید زخمی حالت میں ملے ہیں اور انہیں نیروبی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشن کی رازداری اتنی زیادہ تھی کہ میری بیگم کو بھی پتا نہیں تھا کہ کیا کر آیا ہوں، بھارت کا S 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کرنے والے پائلٹ کی پروگرام میں گفتگو
سابق نائب صدر کا بیان
بی بی سی کے مطابق سابق نائب صدر ریگاتی گاچگوا کے مطابق کوئمبوری کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ حکومت کے شدید ناقد اور گاچگوا کے اتحادی ہیں، جنہیں صدر ولیم رُٹو سے اختلافات کے بعد گزشتہ برس معزول کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان ؛ سکواڈ پر حملے میں 5 پولیس اہلکار زخمی، ڈی پی او محفوظ رہے
حکومت کی خاموشی اور اپوزیشن کا ردعمل
اغوا کے واقعے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل نہیں آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف جاپانی کمپنی یاماہا (YAMAHA) نے پاکستان میں موٹر سائیکل کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کر دیا
کوئمبوری کی حالت اور دریافت کا واقعہ
کوئمبوری کو پیر کی صبح ایک موٹرسائیکل سوار نے کافی فارم میں پایا اور دیگر افراد کو اطلاع دی۔ ایک ویڈیو میں وہ زمین پر پڑے دکھائی دیے، ان کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے اور وہ شدید تکلیف میں نظر آئے۔
کینیا میں بڑھتے ہوئے اغواء کے واقعات
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف گزشتہ برس سے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اغوا کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جون 2023 سے اب تک 80 سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، جن کے اغوا کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم حکومتی ادارے اس کی تردید کرتے ہیں۔








