مغوی رکن اسمبلی شدید زخمی حالت میں کھیتوں سے مل گیا، حالت تشویشناک
کینیا کے رکنِ پارلیمنٹ کا اغواء
نیروبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کینیا کے ایک رکنِ پارلیمنٹ جارج کوئمبوری، جو اتوار کو چرچ سے واپسی پر مبینہ طور پر اغوا کر لیے گئے تھے، ایک کافی فارم سے شدید زخمی حالت میں ملے ہیں اور انہیں نیروبی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے ساحلی علاقے مارماریس میں 5.8 شدت کا زلزلہ
سابق نائب صدر کا بیان
بی بی سی کے مطابق سابق نائب صدر ریگاتی گاچگوا کے مطابق کوئمبوری کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ حکومت کے شدید ناقد اور گاچگوا کے اتحادی ہیں، جنہیں صدر ولیم رُٹو سے اختلافات کے بعد گزشتہ برس معزول کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے تیاریاں شروع کردیں
حکومت کی خاموشی اور اپوزیشن کا ردعمل
اغوا کے واقعے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل نہیں آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے پہلے اور منفرد مینارٹی کارڈ کی منظوری، کتنےہزار اقلیتی خاندانوں کو مالی امداد ملے گی؟ جانیے
کوئمبوری کی حالت اور دریافت کا واقعہ
کوئمبوری کو پیر کی صبح ایک موٹرسائیکل سوار نے کافی فارم میں پایا اور دیگر افراد کو اطلاع دی۔ ایک ویڈیو میں وہ زمین پر پڑے دکھائی دیے، ان کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے اور وہ شدید تکلیف میں نظر آئے۔
کینیا میں بڑھتے ہوئے اغواء کے واقعات
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف گزشتہ برس سے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اغوا کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق جون 2023 سے اب تک 80 سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، جن کے اغوا کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم حکومتی ادارے اس کی تردید کرتے ہیں۔








