فرعونوں کے مقبرے ملنا عام بات لیکن اب مصر سے ہزاروں سال پرانے ایسے مقابر دریافت کہ دنیا حیران رہ گئی
تاریخی دریافت
قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصر کے شہر لکسور میں تین ہزار سال سے زائد قدیم تین مقبرے دریافت ہوئے ہیں، جو مصر کے نئے بادشاہی دور (1539 تا 1077 قبل مسیح) کے اہم ریاستی عہدیداروں سے منسوب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2023 میں ہونے والے یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم گرفتار
دریافت کی جگہ
سی این این کے مطابق یہ دریافت دراع أبو النجا کے علاقے میں ہوئی، جو غیر شاہی شخصیات کے لیے مخصوص قدیم قبرستان سمجھا جاتا ہے۔ مصر کی وزارت سیاحت و آثار قدیمہ کے مطابق یہ مکمل کھدائی مصری ماہرین آثار قدیمہ نے انجام دی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
مقابر کی تفصیلات
مقابر میں موجود نقوش اور تحریروں سے ان کے مالکان کی شناخت ممکن ہوئی۔ ان میں سے ایک مقبرہ رامیسائی دور کے ایک شخص آمن ام ایپت کا ہے جو آمن کے مندر یا جائیداد سے وابستہ تھا۔ دوسرا مقبرہ 18ویں خاندان سے تعلق رکھنے والے بکی کا ہے جو غلہ خانے کا نگران تھا۔ تیسرا مقبرہ اسی دور کے ایک شخص ایس کا ہے جو کئی سرکاری عہدوں پر فائز رہا، جن میں آمن کے مندر میں نگران، شمالی نخلستانوں کا گورنر اور منشی شامل ہیں۔
مقابر کی ساخت
حکام کے مطابق مقابر کی اندرونی ساخت مختلف ہے، جن میں صحن، راہداریاں، مرکزی ہالز اور تدفین کے کنویں شامل ہیں۔ یہ دریافت لکسور میں اس سال ہونے والی کئی دیگر اہم آثار قدیمہ کی دریافتوں میں ایک اور اہم اضافہ ہے۔








