جاوید اختر نے مسلمان ہونے کی بنا پر کرائے کا گھر نہ ملنے کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا
جاوید اختر کا بشری انصاری کے تبصروں پر جواب
ممبئی (آئی این پی) بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے حالیہ انٹرویو میں اداکارہ بشری انصاری کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی کانفرنس 30 کاپ، 10 نومبر سے برازیل میں شروع ہوگی، وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کی نمائندگی کریں گی
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک
بھارتی شو میں دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ اگرچہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے، لیکن اس پر بیرونی تنقید انہیں ناگوار گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا باپ خلائی مخلوق تھا، ایلینز اس کے اعضا لے گئے” بیٹے نے والد کو بے دردی سے قتل کردیا
شبانہ اعظمی کا واقعہ
انہوں نے ممبئی میں مسلمان ہونے کی وجہ سے شبانہ اعظمی کو مکان نہ ملنے کا واقعہ بھی دہرایا، جس میں مالک مکان نے شبانہ کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر فلیٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے
پاکستان کا حوالہ
جاوید اختر نے اہلیہ کو مکان نہ ملنے کا الزام بھی پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ مالک مکان ایک سندھی تھا جس کو تقسیم کے بعد پاکستان کی جانب سے سندھ سے بیدخل کیا گیا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کیلئے اس کی تلخیوں کی جڑیں پاکستان میں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ؛ خاتون کے نان نفقہ سے متعلق اپیل پر فیصلہ محفوظ
تاریخی زخم اور ذاتی تعبیر
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اگر مسلمانوں کو مکان نہ دیں تو اس کے پس پردہ تاریخی دکھ اور زخم ہیں جنہیں سمجھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تشدد کا شکار افراد کے تحفظ کا بل منظور کر لیا
بشری انصاری کا مشورہ
جاوید اختر نے پاکستان کی سینئر اداکارہ بشری انصاری کے بیان کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔ یاد رہے کہ بشری انصاری نے جاوید اختر کو اشتعال نہ پھیلانے اور خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نصیر الدین شاہ اور دیگر لوگ بھی ہیں جو خاموش ہیں، اگر آپ کچھ اچھا نہیں کہہ سکتے تو خدا سے ڈریں اور خاموش رہیں۔
تنقید کی نوک
سینئر اداکارہ نے بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ یہاں آتے ہیں تو لڈیاں ڈالتے ہوئے جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر زہر اگلتے ہیں۔








