بنوں میں اہم جرگہ، فتنہ الخوارج اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
اہم جرگہ کا انعقاد
بنوں میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فتنۃ الخوارج کے تدارک کے لیے انتظامیہ کا مکمل ساتھ دیا جائے گا۔ فتنہ الخوارج کے حامیوں کو وارننگ دی جائے گی، اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں قانون کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر پاؤ پل جلاؤگھیراؤ کیس کا 42 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری
شرکت کرنے والے افراد
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، بنوں پولیس اسٹیشن ڈومیل کے علاقے کم چشمی میں 7 جون کو اس اہم جرگے کا انعقاد کیا گیا، جہاں طاؤس خیل قبیلے کے تقریباً 280 سے 300 مقامی افراد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں عدم اعتماد کی تجویز زیر بحث نہیں، صوبے کو بحران میں ڈالنے کا کام نہیں کریں گے: عرفان صدیقی
جرگے کا مقصد
جرگے کا مقصد علاقے میں فتنہ الخوارج گروہ کی موجودگی کی اطلاعات کے علاوہ امن و امان کی صورتحال کو زیر غور لانا تھا۔ اس موقع پر ممتاز مقامی رہنماؤں ملک توانی، ملک ناصر اور فرید خان نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی نے عمران خان کے سعودی عرب کے سفر کا ذکر کیوں کیا؟
تحفظ کیلئے اقدامات
ذرائع کے مطابق، جرگے میں اہم نکات پر فیصلہ کیا گیا کہ "کم چشمی علاقے کی حفاظت کے لیے 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک مقامی کمیٹی بنائی جائے گی"، اور کمیٹی کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے ساتھ تعاون فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یوم پاکستان پر صدر اور وزیر اعظم کا قوم کو پیغام، اتحاد و یکجہتی اور ترقی کے عزم کا اعادہ
مقامی بزرگوں کی ذمہ داریاں
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ "مقامی بزرگ ان گھروں کا دورہ کریں گے جہاں فتنہ الخوارج گروہوں سے تعلق رکھنے یا ان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کا شبہ ہے"۔ ایسے افراد کو سختی کے ساتھ خبردار کیا جائے گا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اگر فتنہ الخوارج یا ان کے گروہ کو کم چشمی کے علاقے میں دیکھا گیا تو لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے قطر کے امیر کا رابطہ
علاقے کی حفاظت کی ذمے داری
جرگے نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مقامی افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کی گرفتاری میں اپنا کردار ادا کریں، اور انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
دہشت گردی کے خلاف عزم
مقامی افراد کے مطابق، دہشت گردی یا غیر قانونی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس جرگے کا متفقہ لائحہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔








