بنوں میں اہم جرگہ، فتنہ الخوارج اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
اہم جرگہ کا انعقاد
بنوں میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فتنۃ الخوارج کے تدارک کے لیے انتظامیہ کا مکمل ساتھ دیا جائے گا۔ فتنہ الخوارج کے حامیوں کو وارننگ دی جائے گی، اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں قانون کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر کوئی حقیقی فالورز نہیں،مقبولیت کے دعوے فریب ہیں، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل
شرکت کرنے والے افراد
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، بنوں پولیس اسٹیشن ڈومیل کے علاقے کم چشمی میں 7 جون کو اس اہم جرگے کا انعقاد کیا گیا، جہاں طاؤس خیل قبیلے کے تقریباً 280 سے 300 مقامی افراد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا باضابطہ طور پر ’’جوڈیشل کمیشن آف پاکستان‘‘ کا حصہ بننے کا فیصلہ
جرگے کا مقصد
جرگے کا مقصد علاقے میں فتنہ الخوارج گروہ کی موجودگی کی اطلاعات کے علاوہ امن و امان کی صورتحال کو زیر غور لانا تھا۔ اس موقع پر ممتاز مقامی رہنماؤں ملک توانی، ملک ناصر اور فرید خان نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی عمر دراز نے لوگوں کو ایک ہزار جانوروں کے لیے مفت چارہ تقسیم کرنے والے بھائیوں کی ویڈیو شیئر کر دی
تحفظ کیلئے اقدامات
ذرائع کے مطابق، جرگے میں اہم نکات پر فیصلہ کیا گیا کہ "کم چشمی علاقے کی حفاظت کے لیے 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک مقامی کمیٹی بنائی جائے گی"، اور کمیٹی کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے ساتھ تعاون فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی ڈگری کے کیس میں جمشید دستی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی
مقامی بزرگوں کی ذمہ داریاں
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ "مقامی بزرگ ان گھروں کا دورہ کریں گے جہاں فتنہ الخوارج گروہوں سے تعلق رکھنے یا ان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کا شبہ ہے"۔ ایسے افراد کو سختی کے ساتھ خبردار کیا جائے گا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اگر فتنہ الخوارج یا ان کے گروہ کو کم چشمی کے علاقے میں دیکھا گیا تو لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاونڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر 9 صفحات کا فیصلہ جاری
علاقے کی حفاظت کی ذمے داری
جرگے نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مقامی افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کی گرفتاری میں اپنا کردار ادا کریں، اور انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
دہشت گردی کے خلاف عزم
مقامی افراد کے مطابق، دہشت گردی یا غیر قانونی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس جرگے کا متفقہ لائحہ عمل علاقائی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔








