رحیم یار خان میں 13 سالہ بچی کی موت، ماں نے گھر لے جا کر لاش دیکھی تو پیروں تلے زمین نکل گئی، پولیس کی دوڑیں
تجربہ کار ملازمہ کی المناک موت
رحیم یار خان(ڈیلی پاکستان آن لائن )گلشن اقبال میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ تشدد سے جاں بحق ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے لیے فضائی حدود بند، صرف امارات جانے والی پروازوں کو کتنی تاخیر کا سامنا ہوگا؟
واقعے کی تفصیلات
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق 13 سالہ گھریلو ملازمہ سمیہ نواحی علاقے کوٹلہ پٹھان کی رہائشی تھی، سمیعہ گزشتہ 3 سال سے گلشن اقبال کے علاقے میں شہرام نامی شخص کے گھر پر ملازمہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر کسی کے پاس دلیل اور تربیت نہ ہو، تو دوسروں کی کردار کشی ہی اس کا واحد سہارا بن جاتی ہے، شیرافضل مروت کا ثمینہ پاشا کو مشورہ
تشدد کی تحقیقات
عرفان سموں نے بتایا کہ بچی کی موت میاں بیوی کے تشدد سے ہوئی، موت کے بعد بچی کی والدہ کو گھر پر سمیعہ کی اچانک موت کی اطلاع دی گئی اور بچی کی لاش کو کفن میں لپیٹ کر رات کے اندھیرے میں ماں کے حوالے کیا گیا، بیٹی کی لاش گھر پہنچنے پر ماں نے دیکھا تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 21جون تک ملتوی
پولیس کی فوری کارروائی
ڈی پی او کے مطابق بچی کی ماں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے ملزم میاں بیوی کو چھاپا مار کارروائی کے دوران گرفتار کرلیا۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ
ڈی پی او نے مزید بتایا کہ بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ہے ، ابتدائی میڈیکل میں بچی کے جسم پر سر سے پیروں تک بد ترین تشدد کے نشانات ملے ہیں۔








