اسرائیل کے ایران پر حملے سے صدر ٹرمپ کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ
ٹرمپ کا جنگوں میں عدم مداخلت کا وعدہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اس وعدے پر مہم چلاتے آئے ہیں کہ وہ امریکہ کو نئی جنگوں میں نہیں جھونکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی روس-یوکرین اور اسرائیل-غزہ کی جنگیں ختم کر دیں گے، جو تاحال نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں 14ہزار روپے کی بڑی کمی
ایران سے متعلق حالیہ بیانات
بی بی سی کے مطابق اگرچہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے کی منظوری نہیں دی لیکن ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس واضح طور پر اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ وہ اس کارروائی کے حامی ہیں۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا "ایران کو ایک معاہدہ کر لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ کچھ باقی نہ بچے، اور اسے بچا لینا چاہیے جو کبھی ایرانی سلطنت کہلاتی تھی۔"
یہ بھی پڑھیں: سانپ نے جاپان کی مشہور بلیٹ ٹرین سروس کا نظام درہم برہم کردیا
ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر دباؤ
یقینی طور پر وہ اس کشیدگی کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ ایران اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبردار ہو جائے، جو بظاہر ممکن نہیں لگتا۔ تاہم ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ صورت حال ان کے حمایتی حلقے کو شدید تقسیم کر دے، جو ان کے "کوئی نئی جنگ نہیں" اور "مداخلت نہیں" کے وعدے پر مضبوط یقین رکھتے ہیں۔ ان حلقوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت انہیں اپنے اس وعدے سے پیچھے ہٹا سکتی ہے۔
ٹرمپ کی صدارت کا مستقبل
ٹرمپ اس نازک توازن کو کیسے برقرار رکھتے ہیں، یا رکھ بھی پاتے ہیں یا نہیں، یہی بات ان کی صدارت کو ان کے بہت سے حمایتیوں کی نظر میں تعریف یا تنقید کا مرکز بنا سکتی ہے۔








