بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا، اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں، اڑیسہ کی عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے انتہا پسندوں کے حملے۔۔۔فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں کے ہوشربا انکشافات
اڑیسہ میں عیسائی برادری پر حملے
لاہور ( طیبہ بخاری سے ) اڑیسہ کی عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے حملے، انتہا پسند ہندو گھروں میں گھس گئے، عورتوں اور بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ اس حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قازقستان میں نقاب پر پابندی: عوامی جگہوں پر چہرہ چھپانا غیر قانونی قرار
اقلیتوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ
تفصیلات کے مطابق انتہا پسند مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے، اقلیتوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتیں مسلسل انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ ملی ہے جبکہ اقلیتوں کی جان و مال اور عبادات سب خطرے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں مارخور ٹرافی ہنٹ پر وفاق اور صوبے کے درمیان تنازع برقرار
ڈاکٹر اشوک سوائن کے انکشافات
بھارتی ریاست اڑیسہ کی عیسائی برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے بڑھنے لگے ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر انتہا پسند ہندوؤں کے ظلم کو آشکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر اشوک سوائن نے انکشاف کیا کہ "ریاست اڑیسہ کے ضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پر ہندوتوا غنڈوں نے مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کیا، جس میں 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔"
یہ بھی پڑھیں: افسوس ہے وزیراعلیٰ پنجاب کو گٹر کھلوانے کے لیے خود آنا پڑتا ہے، ترجمان سندھ حکومت
پولیس کا خاموش تماشائی ہونا
ڈاکٹر اشوک سوائن نے کہا ہے کہ "مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں، حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں جبکہ مودی سرکار سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے نارووال جانے والی مسافر ٹرین حادثے کا شکار ہو گئی
تحقیقات کے نتائج
اس حوالے سے بھارتی جریدے "نیوز ریل ایشیاء" کی تحقیقاتی ٹیموں نے عیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق "ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔ مارچ سے اپریل 2025 کے دوران ثلاث فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے ریاست اڑیسہ کے تین اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی۔"
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور ذاتی حیثیت میں تھا پارٹی فیصلہ نہیں، مٹر گشت ہی کرنا تھی تو لیڈی ریڈنگ اسپتال ہی چلے جاتے ،اختیار ولی
سماجی مسائل اور مظالم کا سامنا
ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔ 18 دسمبر 2024 کو بالاسور میں عیسائی نوجوان کی تدفین روکی گئی۔ قبائلی عیسائیوں کو بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا ہے اور بھارتی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم کرادیا، علیمہ خان سمیت متعددکارکنوں کو تحویل میں لے لیا گیا
مزید وحشت کے واقعات
نیوز ریل ایشیاء کے مطابق "ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولا، خواتین اور بچیوں پر حملہ کیا گیا، 2 پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کا کندھا توڑ دیا، خواتین کی چادریں پھاڑ دیں، عیسائی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی۔"
قومی آزادی کی حیثیت
بھارتی جریدے "کرسچینٹی ٹوڈے" نے ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد کو آشکار کیا۔ "کرسچینٹی ٹوڈے" کے مطابق ریاست اڑیسہ فرقہ وارانہ تشدد کے دہانے پر ہے، ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ "پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہو کر مظالم میں کردار ادا کرتے ہیں۔"








