جاوید شیخ کا نادیہ خان اور عمر عدیل کو منہ توڑ جواب
جاوید شیخ کا تنقید کا جواب
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے معتبر ترین اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر جاوید شیخ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں نادیہ خان اور عمر عدیل جیسے نقادوں کی غیر منصفانہ تنقید کا دندان شکن جواب دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمشیر سے سائبر تک — طاقت کے بدلتے روپ
نقادوں کی تنقید کا چیلنج
وکی پیڈیا پوڈکاسٹ میں انٹرویو دیتے ہوئے جاوید شیخ نے ان تمام نام نہاد نقادوں کو للکارا جو اپنے مفروضوں پر مبنی رائے سے پروجیکٹس کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طاہر ہ اورنگزیب نے بیٹی مریم اورنگزیب کے اچانک وزن میں کمی کی وجہ بتا دی۔
تحقیقاتی تفصیلات
پوڈکاسٹ کے میزبان کے سوال کے جواب میں جاوید شیخ نے واضح کیا کہ "فیصل قریشی نے راجہ رانی میں کوئی میک اپ استعمال نہیں کیا، میں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "تنقید برائے تنقید کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عزت اور شہرت اللہ کی طرف سے ملتی ہے - اگر اللہ کسی کو دینا چاہے تو کوئی چھین نہیں سکتا۔"
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کا فیصلہ، امریکہ کو اسلحے کی برآمدات روک دیں
ڈاکٹر کی مثال اور فلم کے نتائج
جاوید شیخ نے لاہور کے ایک ڈاکٹر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس نے ’لو گرو‘ فلم، ماہرہ خان اور ہمایوں سعید کے خلاف زہر اگلا تھا، حتیٰ کہ عمر کے حوالے سے توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔ لیکن اس کی غیر منصفانہ تنقید کا کیا نتیجہ نکلا؟ فلم نے 60 ملین سے زائد کمائی کر لی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر کو ڈائریکٹر سے ذاتی نفرت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جب تک سیلاب متاثرین کو سہولیات نہیں دے دی جاتیں، میں یہیں موجود ہوں” سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب 5 دن سے جنوبی پنجاب میں موجود، علی پور میں کیمپ لگا لیا۔
نقادوں کی حقیقت اور عوام کی رائے
انہوں نے زور دے کر کہا کہ "راجہ رانی فیصل قریشی کا پروجیکٹ ہے، نادیہ خان جو چاہے کہتی رہے۔ اصل نقاد تو ناظرین ہوتے ہیں۔ یہی لوگ کسی پروجیکٹ کو پاس یا فیل کراتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی: پانی کی بندش کے باعث متعدد فیکٹریوں میں کام بند
اداکاروں کی حیثیت
جاوید شیخ نے کہا کہ یہ ٹی وی ریویو کرنے والے جو اداکاروں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کا کوئی حقیقی اثر نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن چینلز پر یہ ظاہر ہوتے ہیں، وہ انہی اداکاروں کا مذاق اڑانے والے مواد سے چلتے اور کماتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بھارت نوازی کا پول کھول دیا
جاوید شیخ کی کامیابیاں
جاوید شیخ جنہیں زندگی گلزار ہے، چیف صاحب، طیفا اِن ٹربل اور نامعلوم افراد جیسی کامیاب فلموں اور ڈراموں پر عوام کی بے پناہ محبت حاصل ہے، فی الحال اپنی نئی پروڈکشنز راجہ رانی اور میری تنہائی کے لیے بھی تعریفیں سمیٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھا فنکار اپنے کام سے خود کو منواتا ہے، نہ کہ نقادوں کے تبصروں سے۔
علمی ردعمل
یہ انٹرویو ناظرین کے درمیان کافی مقبول ہوا ہے جن کا ماننا ہے کہ صنعت کو اس قسم کے تجربہ کار فنکاروں کی رہنمائی کی ضرورت ہے جو غیر معیاری تنقید کا مقابلہ کر سکیں۔ جاوید شیخ کے الفاظ نے نہ صرف نادیہ خان اور عمر عدیل کی تنقید کو بے بنیاد ثابت کیا ہے بلکہ ان تمام نام نہاد نقادوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے جو فنکاروں کی محنت کو کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔








