وہ اسرائیلی وزیراعظم جسے فلسطینیوں کے ساتھ امن کی خواہش پر قتل کردیا گیا
اسحاق رابین: ایک تاریخی شخصیت
تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی تاریخ کا واحد وزیر اعظم جسے فلسطینیوں کے ساتھ امن سے رہنے کی خواہش کی وجہ سے قتل کر دیا گیا، وہ تھے اسحاق رابین (Yitzhak Rabin).
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی نہ لینے والے ریسٹورنٹ کیخلاف بڑا فیصلہ
وزیر اعظم کی حیثیت میں خدمات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، اسحاق رابین 1974 میں اسرائیل کے پانچویں وزیر اعظم بنے۔ جبکہ یہ 1992 میں بھی وزیر اعظم کے طور پر چنے گئے اور 4 نومبر 1995 میں اپنی موت تک عہدے پر برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کا پُرتشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا: وزارت داخلہ کا اعلامیہ جاری
پہلا وزیر اعظم جو فلسطینی سرزمین پر پیدا ہوئے
اسحاق رابین اسرائیل کے وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو آزاد فلسطینی سرزمین پر پیدا ہوئے۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے سے پہلے ایک فوجی جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ یہی وہ وقت تھا جس میں انہوں نے محسوس کیا کہ اسرائیل کی بھلائی کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے
امن معاہدے کی کوششیں
اس کیلئے انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدے 'اوسلو ایکورڈز' پر دستخط کیے، جس کے تحت متعدد فلسطینی علاقوں کو خودمختاری دی گئی اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مستقل امن کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مقابلہ اور انتہا پسندی
تاہم اسرائیل میں انتہا پسند دائیں بازو کے یہودی عالموں اور اپوزیشن پارٹی لیکود جس کے رہنما بینجمن نیتن یاہو تھے، نے قومی سطح پر وزیر اعظم کے خلاف اشتعال انگیز محاذ کھڑا کر دیا، جس میں اسحاق رابین کی موت کے نعرے لگائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی 6 سالہ بیٹی کو فروخت کرنے والی ماں کو عمر قید کی سزا سنادی گئی
قتل کا فیصلہ اور اس کے اثرات
اسحاق رابین کا فلسطینیوں سے امن معاہدے کا فیصلہ اسرائیل کے اندر انتہا پسند عناصر کو سخت ناپسند تھا۔ انہوں نے امن معاہدے کو 'اسرائیل کی مقدس سرزمین کا غدارانہ سودہ' قرار دیا۔ یہودی عالموں اور لیکود پارٹی کی اشتعال انگیز تقاریر کا ہی اثر تھا کہ ییگال عامیر (Yigal Amir) نامی ایک یہودی شدت پسند، جو قانون کا طالبعلم تھا، نے اسحاق رابین کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب، وزیر کھیل پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر کی شرکت
قتل کی تفصیلات
ییگال عامیر کا کہنا تھا کہ یہودیت کا قانون اسے اس قتل کی اجازت دیتا ہے کیونکہ وہ اسحاق رابین کو قتل کرکے یہودیوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ 4 نومبر 1995 کو اسحاق رابین نے تل ابیب میں فلسطینیوں سے امن کے موضوع پر ریلی کا انعقاد کیا، جس میں وہ خود بھی شریک ہوئے۔ ریلی کے بعد وہ اپنے گاڑی میں بیٹھتے ہی تھے کہ ییگال عامیر نے موقع سے فائدہ اٹھا کر انہیں پیٹ اور سینے پر گولی مار کر قتل کردیا۔
امن کی کوششوں کا نقصان
اسحاق رابین کی موت نے اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان اور شدید دھچکا پہنچایا۔








