سپریم جوڈیشل کونسل؛ ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر اُن کے نام پبلک نہ کرنے کا فیصلہ
سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ جن ججز کے خلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں، ان کے نام پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 2 سے 3 روز مون سون جاری رہے گا، این ڈی ایم اے
اہم اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا، جس میں ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کونسل ممبر کی حیثیت سے جبکہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جنید غفار بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ لوگوں نے Monopoly بنا رکھی ہے، وہ چاہتے ہیں غریبوں کو ان کا حق نہ ملے، حنا پرویز بٹ
شکایات کا جائزہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ججز کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شکایات کا سامنا کرنے والے ججز کے خلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے پر غور ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی تنظیم نو کا فیصلہ
تجویز مسترد
سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ذرائع کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ جن ججز کے خلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں ان کے نام پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں انسداد انتہا پسندی، شائستگی اور دیانت پر سیمینار، ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، احمربلال صوفی اور دیگر مقررین کا خطاب
اجلاس کا اعلامیہ
بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں جسٹس منیب اختر بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ نے جماعت اسلامی کو مینار پاکستان پر اجتماع کی اجازت دے دی
دیگر اہم شرکاء
علاوہ ازیں اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جنید غفار نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے کے تمام نکات کو ایک ایک کرکے زیر غور لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے منصوبہ بندی کرلی
سروس رولز کی منظوری
اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سیکریٹریٹ سروس رولز 2025 کے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں انکوائری کے طریقہ کار اور ضابطہ اخلاق میں ترامیم کو قانونی اور مسودہ نویسی کے پہلو سے مزید غور و فکر کا متقاضی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر اظہار افسوس
جو شکایات داخل دفتر کی گئیں
سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کی گئی 24 شکایات کا بھی جائزہ لیاا ور کونسل نے متفقہ طور پر ججز کے خلاف 19 شکایات کو داخل دفتر کرنے کا فیصلہ کیا۔
مؤخر کی گئی شکایات
سپریم جوڈیشل کونسل نے دیگر 5 شکایات کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔








