کیف: یوکرینی کرنل کو قتل کرنے والے روسی خفیہ سروس کے ارکان خصوصی آپریشن میں ہلاک
یوکرینی انٹیلی جنس کا کارنامہ
کیف (ڈیلی پاکستان آن لائن) - یوکرینی انٹیلی جنس ایجنٹس نے روسی خفیہ سروس کے سیل کے ارکان کو ہلاک کر دیا، جن پر گزشتہ ہفتے یوکرین کی سکیورٹی سروس (ایس بی یو) کے کرنل کو قتل کرنے کا شبہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا امکان
کارروائی کی تفصیلات
ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے کیا گیا تھا، جن پر یقین ہے کہ کیف میں ایس بی یو کرنل ایوان ورونووچ کے قتل میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
خصوصی آپریشن کی معلومات
ٹیلیگرام میسجنگ ایپ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ خصوصی آپریشن کیا گیا، جس کے دوران روسی ایف ایس بی کے ایجنٹ سیل کے ارکان نے مزاحمت شروع کی، جس کے نتیجے میں انہیں ہلاک کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل، فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں میں تصادم، ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا
روسی حکام کا ردعمل
روسی حکام نے ہونے والے اس آپریشن پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جو کہ ان گزشتہ کارروائیوں کی یاد دلاتا ہے جن میں یوکرین نے روسی اعلیٰ فوجی افسران کو نشانہ بنایا، یہ ماسکو کی بڑی خفیہ ایجنسیوں کے لیے باعثِ شرمندگی رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، وہ ملک میدان میں آگیا جو ثالثی کا ماہر سمجھا جاتا ہے
مشتبہ قاتلوں کی تلاش
ایس بی یو نے کہا کہ ایک مرد اور ایک خاتون پر ورونووچ کو قتل کرنے کا شبہ ہے، یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے مشتبہ ایف ایس بی ایجنٹس ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اس کی قیمت ایک کروڑ ہے، درفشاں کی پینٹنگ کی ویڈیو وائرل
مبینہ قاتلوں کی سرگرمیاں
ایس بی یو کے مطابق، مبینہ قاتلوں کو ان کے ہینڈلر کی طرف سے ہدف کی نگرانی کرنے اور اس کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کی ہدایت دی گئی تھی، بعد میں انہیں ایک چھپنے کی جگہ کے کوآرڈینیٹس دیے گئے جہاں انہیں ایک سائلنسر والا پستول ملا۔
ایجنسی کی کارروائیاں
یوکرینی ایجنسی نے کہا کہ قتل کے بعد وہ ’چھپ کر‘ رہنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ایس بی یو اور پولیس نے انہیں تلاش کر لیا۔ یہ ایجنسی سیکیورٹی اور انسدادِ جاسوسی کے امور کی نگرانی کرتی ہے، لیکن روس کی 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے یہ ماسکو کے خلاف خصوصی کارروائیوں، بشمول ٹارگٹ کلنگ اور تخریبی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔








