ایبٹ آباد دارالامان کے عملے نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے، مقامی عدالت کے باہر خاتون کا میڈیا کے سامنے بیان

ایبٹ آباد میں خاتون کی جانب سے الزامات

ایبٹ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرکاری شیلٹر ہوم ’دارالامان’ میں مقیم ایک خاتون نے عملے پر جنسی اور جسمانی تشدد کا الزام لگایا ہے۔ پولیس نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 10 ملزمان نے سرنڈر کر دیا اور کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست عدالت میں جمع کرادی

میڈیا میں ویڈیو کی گردش

ایبٹ آباد کی مقامی عدالت میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں خاتون قیدی الزام لگا رہی ہیں کہ "انہوں نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے اور میری آنکھوں میں مرچیں ڈالی ہیں"۔ ڈان نیوز کے مطابق ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) ایبٹ آباد عمر طفیل نے بتایا کہ انہوں نے خاتون کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: میری استدعا یہ ہے کہ اس کیس کی سماعت وہ سپریم کورٹ سماعت کرے جو آرٹیکل 176 اور 191 اے کو ملا کر بنے، وکیل شبر رضا رضوی

انکوائری کی ہدایات

ڈی پی او نے کہا کہ انہوں نے ایس پی کنٹونمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ مکمل غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی جائے اور جلد از جلد رپورٹ پیش کی جائے۔ ڈی پی او کے مطابق اگر خاتون کے الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خاتون 2019 سے متعدد بار دارالامان جا چکی ہیں، تاہم، انکوائری کے بعد ہی حقائق واضح ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کے خلاف مبینہ ہراسانی کیس کی سماعت 16دسمبر تک ملتوی

خاتون کے پس منظر کی تفصیلات

ایبٹ آباد پولیس کے ترجمان اعظم میر افضل نے کہا کہ خاتون کو اس کے والدین کی جانب سے دارالامان بھیجا گیا تھا۔ دارالامان ایبٹ آباد کی انچارج رابعہ ذاکر نے میڈیا کو اپنے مؤقف میں بتایا کہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اب دارالامان میں مزید نہیں رہنا چاہتیں، تاہم انہوں نے اپنے الزامات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو خفیہ طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، عطا تارڑ کے اعتراف نے وفاقی حکومت کا جھوٹ بے نقاب کر دیا، شفیع جان

انچارج کا بیان

دارالامان کی انچارج کے مطابق مشورہ دیا گیا تھا کہ خاتون کا مجرمانہ ذہن ہے اور وہ خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرتی ہیں اور دیگر لڑکیوں کے ساتھ نامناسب رویہ رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے دارالامان کی دیگر لڑکیاں ان سے خوفزدہ ہیں۔ رابعہ ذاکر نے کہا کہ تمام حقائق عدالت میں پیش کر دیے گئے تھے۔

عدالت کا فیصلہ

انچارج رابعہ ذاکر نے کہا کہ اگر ان پر الزام ثابت ہوا تو وہ سزا قبول کریں گی، تاہم انہوں نے خاتون کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...