عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کر رہے ہیں: چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس پاکستان کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لان) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کے لیے بری خبر، ایک غلطی سے عمر بھر کا پچھتاوا ہوسکتا ہے، فراڈ سے بچنے کے لیے چند اہم معلومات جانیے
قومی جوڈیشل پالیسی کی اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ قومی جوڈیشل پالیسی اہمیت کی حامل ہے، ملک بھرمیں جوڈیشل نظام کی بہتری کے لیے دورے کیے ہیں، جوڈیشل اکیڈمی میں جوڈیشل افسران کو تربیت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریسٹ ہاؤس کے پاس جانے کی ٹھانی، بالکل قریب جا کر دروازے کی جالی سے اندر جھانکا، میں جھٹکے کے ساتھ واپس ہوا۔
ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس
انہوں نے کہا کہ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس کے قیام پر کام کررہے ہیں، مقررہ وقت میں کیسز کا حل ہونا چاہئے، قانون کے بہترین ماہر روزانہ کی بنیاد پر کیس سن رہے ہیں، عدالتی معاملات کو دو شفٹوں میں چلانے کا معاملہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1. 8 فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں، اگر احتجاج ناکام ہو گیا تو پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا، شیرافضل مروت
نوجوان وکلا کی شمولیت
چیف جسٹس پاکستان نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کے لیے پیشہ ورانہ اور سیاسی وابستگی نہ رکھنے والے نوجوان وکلا کو سامنے لایا جائے گا، التوا کے شکار مقدمات ماڈل عدالتوں کے ذریعے سنے جائیں گے۔
انصاف کی فراہمی کا عزم
انہوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس پاکستان آزاد، غیر جانبدار اور ایماندار جوڈیشل افسران کے ساتھ کھڑا ہوں، میرا خواب ہے کہ متاثرہ سائلین اس اعتماد کے ساتھ عدالتوں میں آئیں کہ انصاف ملے گا۔








