بانی پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی
پی ٹی آئی کی درخواست کا معاملہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف مقدمے کے لیے کیپیٹل پولیس آفیسر (سی پی او) کو درخواست دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: والد کو گالیاں نکالی جاتی ہیں، گھر بھی توڑ دیا جائے گا! ایل ڈی اے آپریشن کے متاثرین کا برا حال، مریم نواز ہمارا کیا قصور؟
درخواست کی تفصیلات
بانی پی ٹی آئی کے وکیل تابش فاروق نے یہ درخواست کوریئر سروس کے ذریعے سی پی او آفس کو بھجوائی، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت 8 ارکان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے کوئی یاتری نہ بھیجا، کرتارپور راہداری دوسرے روز بھی بند
مقدمے میں شامل افراد
درخواست میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) زینب، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اعزاز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر 8 افراد کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں سپرنٹنڈنٹ جیل بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ہراسمنٹ سے پاک ماحول کیلیے بڑا قدم اٹھا لیا گیا
قید میں سہولیات کا فقدان
درخواست میں یہ نقطہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر بانی پی ٹی آئی کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ ان کے سیل میں روشنی کی سہولت تک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کا فضائی معیار انتہائی خراب، آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا
اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کی ممانعت
متن میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور یہ تمام اقدامات مریم نواز کی ایما پر کیے جا رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل پنجاب کی حدود میں آتا ہے، اور مریم نواز ماضی میں دھمکیاں دے چکی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو "ختم" کیا جا رہا ہے۔
ہراسانی کے الزامات
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اے ایس پی اور ایس ایچ او سمیت چوکی انچارج باہمی مشورے سے اہل خانہ کو ہراساں کر رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات اور ان کی بہنوں سے نہ ملنے پر ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس درخواست میں مریم نواز سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔








