سپریم کورٹ، نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست پر سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست پر سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے، شیر افضل مروت۔
سماعت کی تفصیلات
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست پر سماعت کی، ظاہر جعفر کی جانب سے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی
قانونی معاملات
دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ پہلے اس کیس میں سلمان صفدر وکیل تھے، کیا نظرِ ثانی میں وکیل تبدیل ہو سکتا ہے؟ خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ قانون میں ترمیم ہو چکی ہے اور اب نظرِ ثانی میں وکیل کی تبدیلی ممکن ہے، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تبدیلی کسی شخص کے لیے ہے یا اصولی طور پر؟
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں قیدی طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا
کیس کے اضافی نوٹس
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ انہوں نے خود لکھا ہے اور جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ ابھی آنا باقی ہے، ممکن ہے اس اضافی نوٹ سے فریقین کو کوئی فائدہ مل جائے۔
مطلوبہ فیصلے کا انتظار
بعد ازاں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست پر سماعت ایڈیشنل نوٹ آنے تک ملتوی کر دی۔








