راشد لطیف خان یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کانفرنس 2025 کا انعقاد، ممتاز اداروں کی شرکت
بین الاقوامی سٹوکان 2025 کا انعقاد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) راشد لطیف خان یونیورسٹی اور راشد لطیف میڈیکل کالج کے تحت دوسری بین الاقوامی اسٹوکان (STUCON 2025) کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے طلباء، اساتذہ، اور ممتاز ماہرین نے بھرپور شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان کا کہنا ہے کہ پائیدار مستقبل کے لیے انقلابی حکمتِ عملیوں کو اپنانا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا،ہوسٹل میں رہنے کے اخراجات والد صاحب بھیجتے،یوتھ موومنٹ کو آگے بڑھانا کٹھن اور صبر آزما کام تھا
کانفرنس کا موضوع اور سیمینارز
آر ایل کے گروپ کے زیر اہتمام سٹوڈنٹس کانفرنس کا موضوع ’’مستقبل کی تشکیل – پائیدار حل کے لیے انقلابی حکمتِ عملیاں‘‘ تھا۔ کانفرنس سے پہلے دو اہم سیمینار بھی منعقد کیے گئے، جن کے موضوعات ’’صنفی بنیاد پر تشدد‘‘ اور ’’کیریئر کاؤنسلنگ‘‘ تھے، جن میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دورہ چین، پانچویں روز بھی بھرپور مصروفیت، ہواوے کے تعاون سے لاہور کو پہلا جدید ترین سمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ
ورکشاپس اور تحقیق کے سیشن
کانفرنس میں 61 پری کانفرنس ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔ متوازی سیشنز میں طلباء نے میڈیسن، سرجری، فارمیسی، ڈی پی ٹی، بی ڈی ایس، اور نفسیات جیسے شعبوں میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے، جبکہ تھنک ٹینک، میڈ میز اور موہر جیسے مقابلوں نے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف نعت خواں ریحان قریشی کی گاڑی چوری ہو گئی، دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، ملزم آزاد
افتتاحی تقریب اور مہمانان گرامی
افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے خطاب کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف، سی ای او صباحت خان، پروفیسر طاہر مسعود احمد، پروفیسر مدثر علی، اور دیگر شخصیات نے بھی شرکاء سے اظہارِ خیال کیا۔
شرکت اور انعامات کا تقسیم
کانفرنس کے اختتام پر بہترین تحقیق کی پریزنٹیشنز اور مختلف مقابلوں کے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ کانفرنس میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری، پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد اور دیگر 51 اداروں نے نمائندگی کی۔ ماہرین کے مطابق اسٹوکن 2025 پاکستان میں طبی تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کانفرنس کا اختتام گالا ڈنر اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ہوا.








