ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں، قانون کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کے کیس میں ریمارکس
ایس ایچ او کی برطرفی کے خلاف اپیل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اختیارات کے غلط استعمال پر برطرف ایس ایچ او کی اپیل پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں، ہم نے قانون کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا ہے، ساری گواہیاں آپ کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ فارن آفس مشاورت کا سلسلہ 15سال بعد بحال
سپریم کورٹ کی سماعت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں اختیارات کے غلط استعمال پر برطرف ایس ایچ او کی اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل عمیر بلوچ نے کہا کہ دیگر پولیس اہلکاروں کی غلطی تھی، اپیل کنندہ کو بے قصور برطرف کیا گیا، جوان آدمی ہے، ابھی ساری زندگی پڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امارات نے ایرانی میزائلوں کی تیسری لہر ناکام بنادی، وزارت دفاع
جسٹس کا سخت موقف
جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ایس ایچ او تھانے کا کرتا دھرتا ہوتا ہے، کسی عام شہری کو بلاوجہ تھانہ بند کرنا زیادتی ہے۔
کیس کا اجلاس ملتوی
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں، ہم نے قانون کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا ہے، ساری گواہیاں آپ کے خلاف ہیں۔ وکیل عمیر بلوچ نے کہا کہ نہ کوئی شکایت ہے اور نہ ہی کسی نے خلاف گواہی دی۔ سپریم کورٹ نے درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے اور کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔








