مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں: صدر و وزیراعظم
صدر مملکت اور وزیراعظم کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مائیکل بریسویل ٹی 20 ورلڈکپ سے باہر ہوگئے
یوم سیاہ کشمیر کی اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عورتوں کا ٹی 20 ورلڈ کپ، بھارت نے سری لنکا کو شکست دے دی
اقوام متحدہ کا کردار
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ہونے والی کچھ چیزوں پر تشویش، مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنا ورژن بنانے کا منصوبہ بھی مسترد، پارٹی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے، پاپ لیو کا اعلان
پائیدار امن کا انحصار
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ جارحانہ رویے کے تناظر میں، یوم سیاہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا لمبے چھکے ،چوکے مارنے اور تیز کھیلنے کیلئے سابق قومی کرکٹرکی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
تاریخی پس منظر
صدر مملکت نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کی صریح خلاف ورزی کی، جس کی وجہ سے جدید تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹام کروز کی اپنی ایجنٹ کے ساتھ ڈیٹنگ کی افواہیں زور پکڑ گئیں
کشمیری عوام کی جدوجہد
ان کا کہنا تھا کہ ہر سال ہم یہ دن اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بہادر جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے مناتے ہیں۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جارحانہ مہم کے حوالے سے کہا کہ یہ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کے ناکام جلسوں، دھرنوں، ریلیوں اور لانگ مارچ کی داستان لکھ ڈالی
بھارتی مظالم
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی بدستور نقل و حرکت، ابلاغ اور اجتماع کی سخت پابندیوں کے تحت ہے، جبکہ جعلی مقابلے، حراستی تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں شہریوں کو خوفزدہ رکھنے کے لئے جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب: پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد شنگھائی کانفرنس کو ملتوی کرنا تھا
وزیرِ اعظم کا پیغام
یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں نکالا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: بلال بن ثاقب کی ایلون مسک کے والد سے اہم ملاقات، تفصیلات شیئرکردی گئیں
تاریخی ظلم و ستم
انہوں نے کہاکہ تقریباً 8 دہائیوں سے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بے پناہ مصائب اور ظلم و جبر کا سامنا کیا ہے۔ ہم اُن کے ناقابل تسخیر حوصلے، ہمت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں آخری 6 سال میں غربت 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی، گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے، حافظ نعیم الرحمان
آزادی کی جدوجہد
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جن کا مقصد جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی زیر صدارت اہم اجلاس، صوبوں کی مخالفت پر ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ
پاکستان کا مؤقف
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ان غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
یکجہتی کا اعادہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔ ان شااللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہوگی۔








