مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں: صدر و وزیراعظم
صدر مملکت اور وزیراعظم کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس؛سپیکر نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا اعلان کردیا
یوم سیاہ کشمیر کی اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں: این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ، سینیٹ کمیٹی کا چاروں صوبائی وزراءکو بلانے کا فیصلہ
اقوام متحدہ کا کردار
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ کا 14سالہ بیٹا منشیا ت کی زیادتی سے ہلاک ہو گیا
پائیدار امن کا انحصار
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ جارحانہ رویے کے تناظر میں، یوم سیاہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ السنوار: غزہ میں ہلاک ہونے والے حماس کے رہنما کون تھے؟
تاریخی پس منظر
صدر مملکت نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کی صریح خلاف ورزی کی، جس کی وجہ سے جدید تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کے لیے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا
کشمیری عوام کی جدوجہد
ان کا کہنا تھا کہ ہر سال ہم یہ دن اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بہادر جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے مناتے ہیں۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جارحانہ مہم کے حوالے سے کہا کہ یہ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
بھارتی مظالم
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی بدستور نقل و حرکت، ابلاغ اور اجتماع کی سخت پابندیوں کے تحت ہے، جبکہ جعلی مقابلے، حراستی تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں شہریوں کو خوفزدہ رکھنے کے لئے جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اشتہاری قرار، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی ہدایت
وزیرِ اعظم کا پیغام
یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں نکالا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: حامد میر نے بھارت کی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کردیا
تاریخی ظلم و ستم
انہوں نے کہاکہ تقریباً 8 دہائیوں سے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بے پناہ مصائب اور ظلم و جبر کا سامنا کیا ہے۔ ہم اُن کے ناقابل تسخیر حوصلے، ہمت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا ہنگامی اجلاس، اسحاق ڈار ڈھاکہ سے جدہ جائیں گے
آزادی کی جدوجہد
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات میں مزید شدت پیدا کر دی ہے، جن کا مقصد جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں امریکی برانڈز کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی
پاکستان کا مؤقف
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ان غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
یکجہتی کا اعادہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔ ان شااللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہوگی۔








