پیپلز پارٹی نے کراچی کی نوکریوں پر قبضہ کر رکھا ہے، شہر کو لوٹ مار سے آزاد کرائیں گے: حافظ نعیم
کراچی میں سڑکوں کی حالت اور ای چالان
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ شہر میں سڑکیں بنی ہوئی نہیں ہیں لیکن شہریوں کو ہزاروں کے ای چالان آ رہے ہیں، ہم لوٹ مار اور قبضے کے نظام سے شہر کو آزادی دلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی طرف سے سی سی ڈی کی مثالیں دینے پر فواد چوہدری کا تبصرہ
ترقیاتی کاموں کا آغاز
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے منتخب اراکین اپنی بساط سے زیادہ کام کر رہے ہیں، اور کریں گے، ایک مرتبہ پھر 9 ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں تیار رہنا چاہیے بھارت کوئی بھی حرکت کرسکتا ہے،سابق سفیر عبدالباسط
شہری مسائل اور ناکافی بنیادی ڈھانچہ
ان کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب کے کام بھی ان کو دیکھنے پڑتے ہیں، ایس تھری منصوبہ کہاں گیا؟ شہر میں ٹرانسپورٹ نہیں ہے، سڑکیں بنی نہیں ہیں اور ای چالان ہزاروں میں آرہا ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے نہیں بن رہا ہے، ریڈ لائن نے یونیورسٹی روڈ کا برا حال کر رکھا ہے، اورنج لائن میں بھی پورے اورنگی کو کور نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ بے قابو، پنجاب بھر میں تمام تعلیمی ادارے 17نومبر تک بند
قبضہ کی سیاست اور مہنگے ای چالان
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں قبضے کی سیاست جاری ہے۔ گاؤں اور دیہات پر قبضے کے بعد شہروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے، لاہور میں جو چالان 200 روپے کا ہے، سندھ میں 5 ہزار روپے کا ہے، یہ کیا ڈرامہ ہے؟ سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں اور مہنگے ای چالان کیے جا رہے ہیں۔ ہم لوٹ مار اور قبضے کے نظام سے کراچی شہر کو آزادی دلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کے زیرانتظام تعلیمی اداروں میں ہفتے کی تعطیل ختم، نوٹیفکیشن جاری
بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی کمی
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی سیٹوں میں من پسند حلقہ بندیوں کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ پیپلز پارٹی نے دھاندلی کرکے اپنا میئر بنایا۔ بلدیاتی انتخابات جیت کر لوگ کہتے تھے کہ اختیارات ملیں گے، نہیں تو کام کیسے کریں گے؟ ابھی تک پیپلز پارٹی نے ٹاؤن کو اختیارات منتقل نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے باجوڑ دھماکے کے شہید اسسٹنٹ کمشنر سے متعلق اہم انکشاف کر دیا
سندھ حکومت کے کام اور شہر کی حالت
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کچرا اٹھانے کے اختیارات بھی سندھ حکومت کے پاس ہیں، گھر سے جو کچرا اٹھایا جاتا ہے، اس کے پیسے لوگ خود ادا کرتے ہیں۔ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے پاس گھر سے کچرا اٹھا کر لینڈ فیلڈ سائٹ تک پہنچانے کا پورا میکنزم موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں اکیڈمی پرنسپل کی شادی کا جھانسہ دیکر طالبہ سے زیادتی، 2 بار اسقاط حمل بھی کرائے
دباؤ اور ترقیاتی کام
انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے، سٹی وارڈنز کو استعمال کرکے کام میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے ٹاؤن میں اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے تحت تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے. نارتھ ناظم آباد میں کچھ بلاک کے لوگ شکایت کر رہے ہیں، ٹاؤن چیئرمین وہاں پر بھی کام کریں، شہر کی اونر شپ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری
پیپلز پارٹی کی ناکامیاں
ان کا کہنا تھا کہ 12 سے 15 سال سے کراچی کے بڑے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ 15 سالوں میں پیپلز پارٹی نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سیوریج کا نظام بھی ٹاؤن کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف: تعلیمی اداروں کے طلباءکو منشیات بیچنے والوں سمیت11 ملزمان گرفتار
جماعت اسلامی کی مستقبل کی حکمت عملی
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کی نوکریوں پر قبضہ کر لیا ہے، کراچی کے نوجوانوں کو روزگار سے دور کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان کیوں نہیں آرہے؟ مداح کے سوال پر سوریا کمار نے کیا جواب دیا؟
تعلیم کا حق
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تعلیم خیرات نہیں، یہ ہمارے بچوں کا حق ہے۔ جنریشن زی دنیا میں انقلاب لا رہی ہے، اسی جنریشن زی کو مایوس کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مایوس ہوگئی تو غلط راہ پر لگے گی، جماعت اسلامی بنو قابل پروگرام کے ذریعے جنریشن زی کو باصلاحیت بنا رہی ہے۔
حکومت سے مطالبات
انہوں نے کہا کہ حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کام کرنے دو، قبضہ کی سیاست اور کرپشن بند کرو۔ جماعت اسلامی تیاری کر رہی ہے۔ اگر لوگ ہمارے ساتھ نکلے تو آپ کو جانا ہو گا۔








