وفاقی کابینہ کا ۲۷ ویں آئینی ترمیم کے لیے خصوصی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں شروع
وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی کابینہ کا 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے خصوصی اجلاس کچھ دیر میں وزیراعظم ہاؤس میں شروع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی نے ریڈیو پاکستان پشاور واقعہ کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی
اجلاس کی صدارت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کابینہ کو بریفنگ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف اداکارہ اور اینکر ندا یاسر کی میک اپ کے بغیر تصویر نے مداحوں کو حیران کر دیا
شرکاء کی فہرست
وفاقی وزراء خواجہ آصف، بلال اظہر کیانی، رانا تنویر، اورنگزیب کھچی، رانا مبشر، عون چودھری، ڈاکٹر شذرہ منصب، ریاض حسین پیر زادہ، قیصر احمد شیخ، ملک رشید احمد اجلاس میں شریک ہیں جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وزیراعظم ہاؤس موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ زارا ترین کے یک طرفہ محبت اور طلاق سے متعلق اہم انکشافات
کابینہ کی ہدایت
قبل ازیں تمام کابینہ ارکان کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق، استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر اتحادیوں نے حکومت کو حمایت کی یقین دہانی کرا دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کردی: امریکی اخبار
آئینی ترمیم کے حوالے سے پیشرفت
ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے پیپلزپارٹی نے 8 میں سے 3 حکومتی تجاویز کی حمایت کی ہے۔ کمانڈ آف آرمڈ فورسز، آئینی عدالتوں کا قیام اور ججز کے تبادلوں کی شقوں پر اتفاق ہوگیا جبکہ حکومت نے نیا ڈرافٹ تیار کرلیا جس پر کابینہ غور کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 2 ادوار پر مشتمل باضابطہ مذاکرات اب تک مکمل ہو گئے، ماحول مثبت، نتائج مجموعی طور پر حوصلہ افزاء قرار
نئے مسودے کی منظوری
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم کا مسودہ آج ہی سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ این ایف سی، چیف الیکشن کمشنر تقرری، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے عدالتی اختیارات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
اتحادی جماعتوں کی صورتحال
اتحادی جماعتوں میں بیوروکریٹس کی دہری شہریت اور وزارتوں کی وفاق کو واپس منتقلی کی شقوں پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔








