دنیا بھر میں تنازعات نے امن کی اہمیت کو اُجاگر کیا، پاکستان نے کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا: وزیر اعظم کا بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب
وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اُجاگر کیا، اور پاکستان نے کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا۔ افغان حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مایوسی کے بادل چھٹ چکے،آج معیشت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک مزید بہتر ہوں گے:آرمی چیف
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس
اسلام آباد میں بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا۔ ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
امن، سلامتی و ترقی کے موضوع پر پارلیمانی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے 6سال کے وقفے کے بعد 29مارچ کو اسلام آباد سے لندن اور30مارچ کولاہور سے لندن کی پروازیں آپریٹ کرے گی
دنیا بھر کے تنازعات کی روشنی میں امن کی ضرورت
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا۔ دنیا کو دکھادیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔
پُرامن اور مستحکم افغانستان ہی علاقائی روابط، ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے۔ شدت پسند گروہ افغانستان اور اس کے باہر امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت میں تعاون کو برادر ممالک نے سراہا ہے۔ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے بیرسٹر سیف کو اہم ٹاسک سونپ دیا
معاشی اصلاحات کا آغاز
وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری حکومت نے جامع معاشی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ہم پائیدار ترقی، ادارہ جاتی مضبوطی، خواتین و نوجوانوں کا بااختیار بنانے اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور ایس ایم ایز کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو اہمیت دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی شرکت
واضح رہے کہ اسلام آباد میں جاری 2 روزہ کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے پارلیمانی وفود شریک ہیں۔








