وینزویلا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ، امریکہ نے کیریبیئن میں فوجی تعیناتی بڑھا دی، ایئر کرافٹ کیریئر پہنچ گیا
امریکی فوج کی نئی تعیناتی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایک ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ کیریبیئن سمندر میں پہنچ گیا ہے، جس کے بعد وینزویلا کے قریب امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی
فوجی کارروائیاں اور خدشات
اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منشیات سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے کیریبیئن میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم دے رکھا ہے، تاہم خدشات بڑھ رہے ہیں کہ واشنگٹن وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات، پی ٹی آئی نے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روک دیا
اسٹرائیک گروپ کی تفصیلات
امریکی سدرن کمانڈ (SOUTHCOM) کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر سٹرائیک گروپ پہلے اس کے دائرہ کار میں داخل ہوا تھا، اور اب باضابطہ طور پر کیریبیئن سمندر میں پہنچ چکا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ کے اس حکم کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی منشیات فروش نیٹ ورکس کو توڑنا اور ’’نارکو ٹیررازم‘‘ کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شادی کے دوران دلہن کا گھونگھٹ ہٹا تو پوری بارات صدمے میں مبتلا ہوگئی ، دولہا کے ارمانوں پر پانی پھر گیا
آپریشن سدرن اسپئیر
سٹرائیک گروپ میں امریکہ کا جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر، دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، اور دیگر جنگی جہاز و طیارے شامل ہیں۔ یہ گروپ پہلے سے موجود امریکی بحری جہازوں میں شامل ہو رہا ہے۔ اس تعیناتی کو "آپریشن سدرن اسپئیر" کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سراؤں سے بھتہ طلب کرنے والے ملزمان کی ضمانت خارج
ہلاکتوں کا دعویٰ
ستمبر سے جاری اس مہم کے دوران امریکی فوج دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اب تک کم از کم 80 ایسے افراد کو ہلاک کیا ہے جن پر بین الاقوامی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کا الزام تھا۔ تاہم امریکہ نے ان کارروائیوں سے متعلق شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
وینزویلا کا ردعمل
دوسری جانب وینزویلا اس بڑھتی ہوئی امریکی سرگرمی کو اپنے خلاف کھلی دھمکی قرار دیتا ہے۔ امریکہ مادورو کو وینزویلا کا جائز صدر تسلیم نہیں کرتا اور ان کی گرفتاری کے لیے 5 کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے، انہیں منشیات نیٹ ورک چلانے کا ملزم قرار دیتے ہوئے۔








