پولیس سے 5 جعلی مقدمے، بچیوں اور عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن کیانی
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کمسن بچیوں اور والدہ کے اغوا کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ 5 جعلی مقدمے کروا کے بچیوں اور عورت کو اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ایک اور چینی ڈبل کیبنٹ پاکستان میں لانچ کرنے کی تیاری، اس سے زیادہ لگژری ڈالا آپ نے نہیں دیکھا ہوگا۔
لینڈ ڈیل کے حوالے سے تنازع
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سابق چیف ایگزیکٹو افسر پی آئی اے مشرف رسول کا وقاص احمد اور سہیل علیم کے ساتھ لین دین کا تنازع ہوا جس پر وقاص احمد اور سہیل علیم کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی کرپٹو ڈپلومیسی جو رسمی اعلانات سے کہیں آگے نکل گئی، بھارتی میڈیا بھی اعتراف کرنے پر مجبور
ایف آئی اے کی تحقیقات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کردی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے اپنی تحقیقات کرکے کوئی فائنل آرڈر جاری نہ کرے، اسی کیس میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ معطل کردیا ہے اس کے مطابق چلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛ سوتیلے باپ نے 5 سالہ بچی پر تیزاب پھینک دیا
سماعت کے دوران کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آئندہ سماعت تک سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائیں گے، سپریم کورٹ نے جہاں سے ہمیں روکا ہے اس کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔
دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد، پنجاب پولیس کے اقدامات پر برہم ہوئے اور کہا کہ پانچ جعلی مقدمے کرواکے بچیوں اور عورت کو اغوا کیا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے، مدعی کو آج تک کسی نے دیکھا نہیں جو جعلی پرچے کروا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 سالہ کرکٹر کے ساتھ مبینہ تصویر وائرل ہونے پر اداکارہ پریتا زنٹا بھڑک اٹھیں
وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کرنا
جسٹس محسن نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجا تھا، کیونکہ اس کیس میں کم سن بچیاں اور عورت کو اغوا کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب بھی عورت ہیں، معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس لیے بھیجا تاکہ انہیں پتہ ہو ان کی پولیس عورت کے اغوا میں ملوث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ: مزید 36 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی پر غور، کون سے ممالک شامل؟
عدالتی ریمارکس اور ہدایت
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جعلی اور جھوٹے پرچے کرواکے پیسے ریکور نہیں ہوسکتے، جو پرچے آپ نے کروائے ہیں وہ ٹرائل میں دس منٹ میں بھی برقرار نہیں رہ سکیں گے، جرح کے دوران جعلی پرچے فارغ ہو جائیں گے، ایسے نہ کریں۔
فاضل جج نے مزید کہا کہ جس عورت کو اغواء کیا گیا اسی کے گھر سے سامان چوری کرکے ریکوری ڈال دی گئی، پٹیشنر کوئی صاف آدمی نہیں ہے جس نے اکتیس کروڑ کی جائیداد بیچ دی، ماتحت پولیس اہلکاروں کے ساتھ سینئرز بھی مل جاتے ہیں یہ حیران کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوگیا
انسانی حقوق کا تحفظ
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہمیں پٹیشنر سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ اگر قصور وار ہے تو اسے سزا ملے گی، کسی کو سپورٹ کرنے کے حق میں نہیں جو غیر قانونی کام کرتا ہو، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہمارا کام ہے، کسی کو انوسٹی گیشن سے نہیں روک سکتا، جہاں سے عورت اور بچے اغوا ہوئے اس جگہ کو دیکھیں اور رپورٹ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: جہانگیر نگر یونیورسٹی طلباء یونین انتخابات میں اسلامی طلبہ شبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی
سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث
وکیل شہریارطارق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس عدالت کا 24 کا فیصلہ معطل کیا تھا، فیصلہ دس نومبر کو معطل ہوا تو آپ کی عدالت کا پانچ نومبر کا فیصلہ آچکا ہے۔
وکیل درخواست گزار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان لوگوں نے سپریم کورٹ کو بھی مس گائیڈ کیا، سپریم کورٹ نے 24 اکتوبر کا فیصلہ معطل کیا پانچ نومبر کا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: 6 ہزار میں 10 لوگوں کا ناشتہ
آئندہ سماعت کی تاریخ
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ آپ دونوں حضرات سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی دیکھ لیں، جب تک وہاں سے کوئی فیصلہ نہیں آتا ہم بھی کوئی فیصلہ نہیں دیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آئندہ سماعت 27 تاریخ کو رکھ لیں، جس پر جسٹس محسن نے کہا کہ 27 کو کیا پتہ میں یہاں ہوں گا بھی کہ نہیں۔
سماعت کا اختتام
عدالت نے ہدایات کے ساتھ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔








