ایران کا امریکا سے ایٹمی مذاکرات کی بحالی کیلئے سعودی عرب سے مدد کی درخواست
ایران کا سعودی عرب سے مذاکرات کی درخواست
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ امریکا کو راضی کرے کہ تعطل کا شکار ایٹمی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔ دو علاقائی ذرائع کے مطابق یہ درخواست اس بات کی علامت ہے کہ تہران ممکنہ اسرائیلی فضائی حملوں کے خدشات اور اپنی بگڑتی معاشی صورتحال کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی سموگ: لاشیں مل گئیں۔۔۔ تمام کارڈ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟
ایرانی صدر کا سعودی رہنما کو خط
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس دورے سے ایک دن قبل ایرانی صدر مسعود پژیشکیان نے سعودی رہنما کو خط بھیجا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خط میں ایرانی صدر نے لکھا کہ ایران ’’محاذ آرائی نہیں چاہتا‘‘، وہ خطے میں مضبوط تعاون کا خواہاں ہے اور ’’اگر اس کے حقوق کی ضمانت دی جائے تو وہ ایٹمی تنازع کے سفارتی حل‘‘ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ عرب ممالک کے تعاون سے صدام کو ایران کے خلاف صف آرا کیا گیا، روس پر دباؤ ڈالا گیا کہ ایٹمی پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے بدھ کو کہا کہ یہ پیغام ’’خالصتاً دو طرفہ‘‘ نوعیت کا تھا۔ سعودی حکومت نے اس بارے میں تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی ہتھکنڈے غیر جمہوری، حقوق بلوچستان لانگ مارچ نہیں رکے گا: لیاقت بلوچ
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بندش
اسرائیل سے جنگ کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات رک چکے ہیں، اگرچہ دونوں فریق دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی ڈیل کے لیے تیار ہیں۔ خلیج کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران واشنگٹن تک دوبارہ رسائی کے لیے ایک مؤثر چینل چاہتا ہے، اور سعودی ولی عہد بھی مسئلے کے پرامن حل کے حامی ہیں۔ انہوں نے اپنے دورۂ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہی پیغام دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پنجاب کے زیر اہتمام سعودی عرب میں سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کا انعقاد
سعودی عرب کا کردار
ذرائع کے مطابق ’’محمد بن سلمان بھی چاہتے ہیں کہ یہ تنازع پرامن طور پر ختم ہو۔ یہ ان کے لیے بہت اہم ہے، اور یہی انہوں نے ٹرمپ کو بتایا اور کہا کہ وہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ منگل کو سعودی ولی عہد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’ہم امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے حصول کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ٹی سی ایل نے C7K QD ایل ای ڈی متعارف کروائی
سعودی عرب اور ایران کے تعلقات
سعودی عرب اور ایران طویل عرصے تک علاقائی حریف رہے ہیں اور اکثر مختلف پراکسی جنگوں میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے رہے۔ تاہم چین کی ثالثی سے 2023 میں دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے اور سفارتی روابط بحال ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا
سعودی عرب کا سیاسی اثر و رسوخ
سعودی عرب کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر و رسوخ اسے مشرقِ وسطیٰ کی اہم سفارتی قوت بنا چکا ہے۔ واشنگٹن سے اس کے گہرے سیکیورٹی روابط اور ٹرمپ کے ساتھ قیادت کی قریبی دوستی نے بھی ریاض کو خطے میں منفرد حیثیت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ فائنل ؛ ارشد ندیم نے پہلی تھرو 82.73 کی
ایران کی کمزور ہوتی علاقائی پوزیشن
دوسری جانب ایران کی علاقائی پوزیشن پچھلے دو برسوں میں کمزور ہوئی ہے۔ اس کے اتحادی حماس اور حزب اللہ کو اسرائیل کے شدید حملوں کا سامنا ہے جبکہ شامی صدر بشارالاسد، جو ایران کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، بھی اقتدار سے محروم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی نے شہدا کے ورثا کی امدادی رقم 50 لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑ کردی
سعودی عرب کا جوہری پروگرام
امریکی تھنک ٹینک یوریشیا گروپ کے ماہر فیرس مقصاد کے مطابق سعودی عرب اپنا شہری جوہری پروگرام آگے بڑھانا چاہتا ہے، اس لیے وہ امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدے کا خواہاں ہے۔ محمد بن سلمان کے واشنگٹن دورے کے دوران انہیں ٹرمپ نے سول نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات مکمل کرنے کا اعلان کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔
مذاکرات کے آگے بڑھنے کی کوششیں
مقصاد کے مطابق ’’سعودی عرب کی افزودگی کی خواہش کا تعلق امریکا اور ایران کی ایٹمی سفارت کاری سے جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب پس پردہ خاموش سفارتی چینل کے ذریعے ان مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔‘‘








