عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ
عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتب بینی کے فروغ اور پبلک لائبریریوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے متعدد فیصلے
جیل حکام کا جواب
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپنا مفصل جواب جمع کرا دیا ہے۔
جیل حکام کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی صادق آباد پہنچ گئے
سخت سرویلنس میں موجود عمران خان
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں اور ان کے پاس موبائل فون سمیت کسی بھی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی آسٹریلیا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں فتح پر مبارکباد
جیل کے قواعد اور سیکیورٹی تدابیر
ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ موبائل سمیت کوئی بھی ممنوع چیز جیل رولز کے تحت قابلِ اجازت نہیں ہے۔ اڈیالہ جیل کے اندر موبائل فون سگنلز جیمر نصب ہیں، جس کے باعث جیل کے اندر اور اطراف میں موبائل سگنلز مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کے اپنے ہی گھر میں رسوائی کا سامنا، کانگریس نے آپریشن سندور اور جنگ بندی پر بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا
سُرخروئی کے لیے سخت چیکنگ
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب میں مزید بتایا کہ عمران خان اور ان پر تعینات سٹاف کو مستقل طور پر سرچ کیا جاتا ہے، اس لئے ان کے پاس کسی بھی ممنوع سہولت تک رسائی ممکن نہیں۔
جیل رول 265 قیدی بانی پی ٹی آئی کو سیاسی گفتگو سے بھی روکتا ہے، تاہم جیل ٹرائل کے دوران ان سے ملنے والی فیملی اور وکلا بعض اوقات قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی بحث مباحثے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
ماضی کے اثرات
سپرنٹنڈنٹ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جیل سے دی گئی سیاسی ہدایات نے کئی مواقع پر معاشرے میں تشدد کو ہوا دی، لیکن ان کا ایکس اکاؤنٹ جیل کے اندر سے آپریٹ نہیں ہو رہا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اکاؤنٹ جیل کے باہر ہی سے کوئی چلا رہا ہے اور جیل کے اندر نہ موبائل اور نہ ہی انٹرنیٹ جیسی سہولتیں دستیاب ہیں، بانی پی ٹی آئی کو صرف جیل رولز یا عدالتی احکامات کے مطابق فراہم کی جانے والی سہولیات ہی میسر ہیں۔








