فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس پر کوئی فیصلہ آئے گا تو آپ کو بتائیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی بمباری: خواتین اور بچوں سمیت 44 فلسطینی شہید
کورٹ مارشل پر قیاس آرائیاں
ترجمان پاک فوج نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کورٹ مارشل معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، جیسے ہی عمل درآمد ہوگا اس پر کوئی فیصلہ آئے گا ہم آپ کو بتائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں، فوج کے نمائندے بھی ان کمیٹیوں کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رشوت لینے کا مقدمہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے چودھری سرفراز کی ضمانت خارج
افغانستان پر حملے سے متعلق وضاحت
افغانستان پر حملے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں جب حملہ کرتے ہیں، اکتوبر میں ہم نے افغانستان پر حملہ کیا اور سب کو بتایا، دہشتگردی کیخلاف جو بھی جنگ ہے پاکستان جیتے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا 7.2 ارب ڈالر کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، یہ اسلحہ افغان طالبان کے ہاتھ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر دوران ڈرائیونگ رقم گننے والا بس ڈرائیور گرفتار، ایف آئی آر درج
دہشتگردی اور اسلحہ کی صورتحال
ہم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے، یہ اسلحہ ان لوگوں کا روزگار بنا ہوا ہے، یہ منشیات سے اسلحہ خریدتے ہیں، یہ امریکی ہتھیار، امریکی بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، یہ میزائل اور اسلحہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ہم نے سب کو کچھ سمجھایا ہے، بارڈر پر فوج اور ایف سی بارڈر مینجمنٹ کر رہی ہے۔
معاشی صورتحال پر تشویش
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ معیشت کے خلاف گٹھ جوڑ بن رہا ہے، بلوچستان حکومت اس کیخلاف کام کررہی ہے۔








