والدین نے پیسوں کے لیے ناچنے پر مجبور کیا، بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ کا انکشاف
اداکاری کا شوق نہ ہونے کا انکشاف
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی اداکارہ جیا بھٹا چاریہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اداکاری کا کوئی شوق نہیں تھا، والدین نے انہیں ناچنے پر مجبور کیا جب کہ شوبز انڈسٹری میں انہوں نے کاسٹنگ کاؤچ کا بھی سامنا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بار کونسل نے رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا
مشکلات بھرا بچپن
جیا بھٹاچاریہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا بچپن بہت مشکل تھا، اپنے والدین کی خراب شادی کی شکار ہوئیں اور یہ کہ اپنی ماں کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا شکار بھی ہوئیں۔ بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق سدھارتھ کانن سے گفتگو میں جیا بھٹاچاریہ نے بتایا کہ لڑکی کے طور پر پیدا ہونا ان کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین ایک دوسرے سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ آپس میں نہیں جڑے اور ان کا تنازع بچوں تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست منظور، سماعت 28 جنوری تک ملتوی
تشدد کا سامنا
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق ان کی والدہ شادی سے خوش نہیں تھیں؛ ان کے خواب پورے نہ ہوئے، اس لیے انہوں نے انہیں جو کچھ دیا وہ نامکمل تھا۔ والدہ انہیں ہنٹر، بیلن، چمچوں، جوتوں اور دیگر اشیاء سے مارتی تھیں۔ اداکارہ کے مطابق بچپن میں انہیں بہت پیٹا گیا، ان کا بچپن تشدد میں گزرا، جس وجہ سے انہیں خود سے بھی نفرت ہوگئی اور انہوں نے متعدد بار خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی گئی
خاندانی تعلقات
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کا والد سے گہرا لگاؤ تھا، تاہم ان کی ماں کے خلاف نفرت بالغ ہونے تک جاری رہی، جس وجہ سے وہ والدہ کی قدر بھی نہیں کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سفیرپاکستان فیصل نیاز ترمذی کا پاکستانی اور بین الاقوامی فنکاروں پر مشتمل اتحاد ماڈرن آرٹ گیلری کا دورہ
اداکاری کا آغاز
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق اداکاری میں آنا ان کی منصوبہ بندی نہیں تھی، والدہ نے انہیں اداکاری کی طرف دھکیلا، وہ ناچتی تھیں اور موسیقی کی تربیت لے رہی تھی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک بار انہیں ٹیلی فلم میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی، ڈائریکٹر نے ان کے والد سے بات کی اور پہلے انہیں عورت کے طور پر ناچنے کو کہا، پھر مرد کے کردار کو ادا کرنے کا بھی کہا، شوٹ تین دن بعد ہونا تھا لیکن والد نے اگلے دن ہی صبح 5 بجے شوٹنگ سیٹ پر پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد بتا دی
بے اردادی کا کیریئر
اداکارہ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن والد انہیں وہاں لے گئے، یوں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اداکاری کا کیریئر شروع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریضوں کو مفت ادویات دیں نہیں تو گھر بھیج دیں گے، کارکردگی نہ دکھانے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
کاسٹنگ کاؤچ کا خوفناک تجربہ
اداکارہ نے انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ کا خوفناک تجربہ بھی شیئر کیا اور بتایا کہ پہلی ٹیلی فلم کے بعد ڈائریکٹر اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کے گھر آکر انہیں بار لے جانے کے لیے آیا، جس پر والدہ ٹالتی رہیں لیکن ہدایت کار ضدی تھا، اس لیے والدہ نے ان کی بات مان لی۔
ممبئی میں منتقل ہونے کی پیشکش
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق ہدایت کار انہیں ریسٹورنٹ لے گئے، اس وقت وہ 17 یا 18 سال کی تھیں، اس کے بعد ہدایت کار کا دوست روز ان کے گھر آتا رہا، انہیں ڈرائیونگ سکھائی اور پھر ممبئی منتقل ہونے کی پیش کش بھی کی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔








