بھارت کے دورے کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں کم آگاہی کا مشاہدہ
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 233
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد: کیا بھارت بنگلہ دیش کی ‘بِن بُلائی مہمان’ کو سیاسی پناہ دینے پر غور کر رہا ہے؟
قائد اعظم کا جنم دن
ایک سو چودویں جنم دن کی دورۂ بھارت کے دوران ہم نے محسوس کیا کہ یہاں نوجوان نسل کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں بہت کم آگاہی حاصل ہے۔ بلکہ یہ قائد اعظم کی صورت سے آشنا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ تاثر غلط ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی حکومت کے امیدوار ہیں: خواجہ آصف
نوجوان وکلاء کی دلچسپی
ہمیں اس حقیقت کا ادراک اس طرح ہوا کہ کچھ نوجوان وکلاء نے پاکستانی کرنسی دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ہمارے دوستوں نے ان کو پانچ سو اور ایک ہزار روپے والے نوٹ نکال کر انہیں دکھائے۔ نوٹ دیکھتے ہوئے ایک نوجوان نے قائد اعظم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کون ہیں۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ یہ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہے تو سب نوجوانوں نے باری باری نوٹ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر دلچسپی کے ساتھ اس تصویر کو دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شہداء کا بدلہ لیا اور آئندہ بھی لیتے رہیں گے: رانا تنویر حسین
کتاب کا تعارف
ہمارے دوست ظفر علی راجا نے سٹیج چھوڑنے سے قبل حضرت قائد اعظم پر لکھی ہوئی اپنی کتاب ”قائد اعظم اور خواتین“ پورے ہال کو لہرا کر دکھائی اور کانپور بار کی لائبریری میں رکھنے کے لیے تالیوں کی گونج میں صدر کانپور بارایسوسی ایشن کو پیش کرنے اعزاز حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پوسٹ آفس کے ذریعے بجلی کے بل جمع کروانے کی سہولت ختم کرنے کا اعلان
شاعری کا سیشن
اس کے بعد پاکستانی وفد میں شامل دوسرے شاعر رکن سرفراز سید کا نام پکارا گیا۔ سرفراز سید نے پہلے تو یہ شعر پڑھ کر سامعین کا موڈ تبدیل کیا:
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
اور پھر اس شعر کے بعد اپنی مشہور نظم ”عدل آدم“ سنائی جس کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے:
چلو پھر ایسا کرتے ہیں، ذرا تفہیم کرتے ہیں
بنا عدل آدم، رزق ہم تقسیم کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: مسلم ممالک کی بقاء اور ترقی کے لیے نیٹو طرز کے مضبوط اتحاد اور مشترکہ معاشی و دفاعی نظام کا قیام ناگزیر ہے، سراج الحق
کتبے کی حوالگی
نظم ختم ہوئی تو تالیوں کی گونج میں اعلان کیا گیا کہ اب پاکستانی وفد کی جانب سے کانپور بار ایسوسی ایشن کو وہ یادگاری کتبہ پیش کیا جائے گا جو بطور خاص پاکستان سے لایا گیا ہے۔ یہ بھاری اور بڑا کتبہ ارشاد چوہدری کی مدد سے ہم نے سٹیج پر رکھے طویل میز پر رکھا۔ پھر ہم نو کے نو سب ارکان پاکستانی وفد نے اس کتبے کو مشترکہ طور پر کانپور بار کے صدر کی خدمت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: طیب اکرام 8 برس کے لئے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر منتخب
ثقافتی پروگرام
کتبہ حوالگی کی تقریب کو بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلز والے باری باری سٹیج پر آ کر اس یادگار لمحے کو کیمرہ بند کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اب کھانے کے لیے وقفہ ہو گا جس کے فوراً بعد کانپور بار ایسوسی ایشن کی 114 دیں سالگرہ کی تقریبات کا آخری سیشن ہو گا جو کہ کلاسیکل رقص کے لیے مخصوص ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹوینٹی سیریز کا شیڈول جاری کر دیا
کھانے کا اہتمام
کھانے کا اہتمام ایک قریبی کوٹھی کے لان میں کیا گیا تھا۔ لان میں بچھی لمبی میزوں پر کھانا سجانے کا اہتمام جاری تھا اس لیے دیپک مالوی ایڈووکیٹ نے ہمیں اور دیگر مہمانوں کو لان کے ایک کونے میں بچھی کرسیوں پر بٹھایا اور کہا کہ آپ گپ شپ لگائیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








