خالدہ ضیاء کی حالت مزید خراب، بیٹے کی بنگلہ دیش واپسی پر سیاسی و قانونی رکاوٹوں کے سوال اٹھنے لگے
بیگم خالدہ ضیاء کی حالت بگڑ گئی
ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیاء کی حالت مزید بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتا سابق ایم این اے نثار پہنور کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
طارق رحمٰن کی واپسی پر سیاسی و قانونی رکاوٹیں
ان کے بیٹے اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمٰن کی بنگلہ دیش واپسی پر سیاسی و قانونی رکاوٹوں کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قصور نے کھیلتا پنجاب گیمز ڈویژن لیول بوائز ہاکی کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ڈاکٹروں کی تشخیص
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی این پی کے وائس چیئرمین ایڈووکیٹ احمد اعظم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیگم ضیاء کی حالت دوبارہ نازک ہوگئی ہے، گزشتہ رات سے وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ خالدہ ضیاء کو پہلے سی سی یو سے آئی سی یو منتقل کیا گیا اور پھر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی رائے بجٹ سے متعلق بہتر نہیں، معاشی ترقی کیلئے کیا ضروری ہے۔۔۔؟ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں بتا دیا
طارق رحمٰن کی وطن واپسی کی صورت حال
’’جنگ‘‘ کے مطابق 2008 سے لندن میں مقیم خالدہ ضیاء کے بیٹے، خودساختہ جلاوطن اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمٰن کی وطن واپسی تاحال غیریقینی کی صورتِ حال کا شکار ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’وطن واپس آنا پوری طرح میرے اختیار میں نہیں ہے‘‘، جس کے بعد ان کی ممکنہ واپسی پر سیاسی و قانونی رکاوٹوں کے سوال اٹھنے لگے ہیں。
عبوری حکومت کی وضاحت
ادھر نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے وضاحت دی ہے کہ طارق رحمٰن کی واپسی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔








