چیف آف ڈیفنس فورسز کا معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے ،وفاقی وزیرقانون
اسلام آباد میں وفاقی وزیرقانون کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ وزیراعظم ملک میں نہیں تھے، اس لیے اب تک نوٹیفیکیشن نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے بعد ایرانی وفد بھی وطن واپس روانہ
نوٹیفیکیشن کی تاخیر کی وجوہات
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم ملک میں نہیں تھے، جس کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کیا گیا ہے، وہ چائے جلد ٹھنڈی ہو جائے گی۔"
یہ بھی پڑھیں: بہن پر دہرے قتل کا الزام، نرگس فخری کو واقعے کا علم کیسے ہوا؟ حیران کن دعویٰ
قانونی وضاحتیں
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پراسیس میں ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ آرٹیکل 243 میں کوئی ابہام نہیں ہے، نہ ہی آرمی، نیوی یا ائیر فورس کے قوانین میں کسی ابہام کا سامنا ہے۔ قانون میں واضح کیا گیا کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت عمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعلیٰ سے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات، ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر حصے تک پہنچانا چاہتے ہیں:مریم نواز
ترمیمات اور معیاد کی وضاحت
وزیر قانون نے یہ بھی بتایا کہ 2024 میں ہونے والی ترامیم کے بعد، عہدے کی معیاد تین سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ دوبارہ تعیناتی کے ساتھ ایکسٹنشن ایک ساتھ یا ایک ایک سال کی دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1963ء میں پنجاب یونیورسٹی کے تمام امتحانات میں انگریزی کے ساتھ اردو زبان کے استعمال کی بھی اجازت دیدی گئی۔ اس طرح ہماری تحریک کامیاب ہوئی۔
مستقبل کی توقعات
انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی بیک وقت تعیناتی ہونی ہے۔ کل بھی کچھ ہدایات وزارت دفاع سے شیئر ہوئی ہیں اور اس پر کام جاری ہے۔ جلد ہی نوٹیفکیشن متوقع ہے، اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں بند ہونی چاہئیں۔ اس معاملے میں کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔
نوٹیفکیشن کی نوعیت
وزیر قانون نے وضاحت کی کہ نئی سکیم آف لا میں 'کنکرنٹلی' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ الگ نہیں ہوگا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ آرمی چیف کا ایک ہی نوٹیفکیشن ہوگا۔








