سیانے کہتے ہیں مشکل وقت آئے تو سائیڈ پر ہو جاؤ، آ گے جیسا آپ مناسب سمجھیں، وہ خوش دلی سے ملے، کہنے لگے ”تمھیں ایک آفر دیتا ہوں“
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 370
یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ شکیرا رقص کے دوران سٹیج پر گر گئیں، ویڈیو وائرل
پیشکش کا آغاز
چار پیسے تم بھی کما لو؛ وہ خوش دلی سے ملے۔ چائے منگوائی اور کہنے لگے؛”تمھیں ایک آفر دیتا ہوں۔ پنجاب کی جس ٹی ایم اے میں چاہو ٹی ایم او لگ جاؤ یا مرضی کے ضلع کے اے ڈی ایل جی۔ چار پیسے تم بھی کما لو۔“
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار ایک لاکھ 21 ہزار پوائنٹس کی حد عبور
میرے خیالات
میں نے اس فراخدالانہ پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا؛”سر! منسٹر صاحب اور آپ کے بعد میں محکمہ کا سب سے بااثر افسر تھا۔ سر نہ تو میں ٹی ایم او لگ کر کسی ناظم کی ٹی سی کر سکتا ہوں اور نہ ہی بطور اے ڈی ایل جی کسی ایم پی اے کی۔ مہربانی کریں مجھے ہیڈ کوارٹرز میں اے ڈی(ایڈمن) کی پوسٹنگ دے دیں میں پھر پنجاب کا افسر ہی رہوں گا۔ ویسے سیانے کہتے ہیں کہ مشکل وقت آئے یا سمجھو آنے والا ہے تو سائیڈ پر ہو جاؤ۔ آگے جیسا آپ مناسب سمجھیں۔“
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پانی روکنے کے لیے تعمیرات کیں تو ہم انہیں تباہ کردیں گے: وزیر دفاع
براہ راست بات چیت
میری بات سن کر حیران ہوئے اور کہنے لگے؛”واہ شہزاد میاں! ایسی سوچ تمھاری ہی ہو سکتی ہے۔“ ساتھ ہی ایڈیشنل سیکرٹری علی بہادر قاضی سے کہا؛”شاہد اقبال(ڈائریکٹر ایڈمن ڈی جی آفس) سے کہو شہزاد کی مرضی کی پوسٹنگ اسے دے دے۔“
یہ بھی پڑھیں: بلٹ ٹرین اور جدید ریلوے نیٹ ورک سمیت معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے: مریم نواز
نئی پوسٹنگ
میں ڈائریکٹر کے پاس پہنچا اور ان سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر(ایڈمن ون) کی پوسٹنگ کی درخواست کی۔ وہ بولے؛”وہاں آپ نہیں لگ سکتے میں کسی اور ونگ میں لگا دیتا ہوں۔ بتاؤ کہاں پوسٹ کروں۔“ میں نے جواب دیا؛”سر! پوسٹنگ تو ایڈمن ون ہی لینی ہے۔ بس مجھے ایک چکر سیکرٹریٹ کا اور لگانا پڑے گا۔“ کہنے لگا؛”وہ پھر مرضی آپ کی۔“
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کے میچ کے بعد راشد خان سے بڑے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت
تبادلے کی خوشخبری
میں واپس تارڑ صاحب کے پاس آیا اور ان کو شاہد سے ہوئی گفتگو سے آگاہ کیا۔ انہوں نے علی بہادر کو انٹر کام پر کہا؛”شہزاد! تمھارے پاس آ رہا ہے۔ فیکس پر اس کے آڈرز اپنے پاس منگوا کر مجھے بتاؤ۔“ میں علی بہادر صاحب کے پاس آیا تو پانچ منٹ بعد میرے آڈرز کی فیکس موصول ہو گئی۔ تارڑ صاحب کا شکریہ ادا کیا اور نئی پوسٹنگ جوائن کر لی۔ سوچتا ہوں کہ ہم صرف ڈنڈے کی زبان ہی کیوں سمجھتے ہیں۔ اب پھر سے پنجاب کا افسر تھا۔ اللہ بڑا رحیم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے باضابطہ طور پر وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کردی
ڈائریکٹر ایڈمن کی حیثیت
ڈائریکٹر ایڈمن میری اس پوسٹنگ کو دل سے لگا چکے تھے۔ میرے ان کے تعلقات کبھی بھی اچھے نہ رہے۔ میری خوش قسمتی چند دنوں بعد ہی ان کا تبادلہ ہو گیا۔ ڈائریکٹر جنرل کی خالی پوسٹ پر طاہر حسین تعینات کر دئیے گئے۔ راولپنڈی کے رہنے والے درویش منش سی ایس پی اور خاندانی افسر سے میرے تعلقات تب سے تھے جب وہ ڈی سی او فیصل آباد تھے۔ ایک دورے کے دوران میں نے انہیں منسٹر صاحب کی ناراضگی سے بچایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں، خواجہ آصف کا بیان
نتیجہ
تب سے وہ میرا بڑا خیال کرتے تھے۔ (بعد میں یہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور سیکرٹری قومی اسمبلی بھی رہے۔ آج بھی محبت کا یہ تعلق برقرار ہے۔) ڈائریکٹر ایڈمن کی خالی پوسٹ پر ایڈیشنل چارج کا قرعہ میرا نام نکلا۔ اللہ نے ایک اور مہربانی مجھ نالائق پر کر دی تھی۔ میں ڈیپارٹمنٹ کا پہلا افسر تھا جو اس عہدے پر تعینات ہوا تھا۔ الحمد اللہ رب العالمین۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








