خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے 3 پن بجلی منصوبے مکمل کر لیے
خیبر پختونخوا حکومت کے پن بجلی منصوبے
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے 3 پن بجلی منصوبے مکمل کر لیے، ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ 4.4ارب روپے کی آمدن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان کو کتنا بڑا نقصان ہوسکتا تھا؟
سوات کوریڈور پر ٹرانسمیشن لائن
سوات کوریڈور پر 40 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائے گا جن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سکھ اور ہندو برادری کے لیے خوشخبری، وزیر اعلیٰ نے اہم اعلان کر دیا
اجلاس میں سیکرٹری توانائی کی صدارت
ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد نے پیڈو ہاؤس میں پن بجلی کے جاری 7 اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عارف علوی کی بطور صدر مملکت تقرری کیخلاف درخواست، آئینی بینچ نے درخواستگزار کو نوٹس جاری کردیا
پن بجلی منصوبوں کی کامیابی
اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈو حبیب اللہ شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے 40.8میگاواٹ کوٹو دیر، 11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور 10.2 میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریکِ انصاف کے اندر 5، 6 چھوٹی چھوٹی پی ٹی آئیز موجود ہیں، 8 فروری کو کیا ہی احتجاج ہوگا، اب ان کی ہوا نکلتی جا رہی ہے، خواجہ آصف
مزید پن بجلی منصوبوں کی پیشرفت
اسی طرح 300 میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ، 157 میگاواٹ مدین سوات، 88 میگاواٹ گبرال کالام، 84 میگاواٹ مٹلتان سوات، 69 میگاواٹ لاوی چترال اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین پاور پراجیکٹ تورغر پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلیکٹر کا نامناسب رویہ اور فحش سوالات، سابق بنگلادیشی خاتون کرکٹر کے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ
سوات کے منصوبوں پر تشویش
سیکرٹری توانائی نے ضلع سوات میں توانائی کے جاری 3فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان منصوبوں سے 330میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ 2 سالوں میں شروع ہونے کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاونٹرز، بھارت کا نیا منصوبہ بے نقاب
ڈیڈلائن کی پابندی کی ہدایت
انہوں نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو خبردار کیا کہ منصوبے مقررہ ڈیڈلائن کے اندر مکمل کریں بصورت دیگر اب کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 3400روپے کمی
پیدو افسران کی کارکردگی
انہوں نے پیڈو افسران کو تمام امور ٹیم ورک کے تحت نمٹانے پر زور دیا کیونکہ محکمہ توانائی موجودہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گین چارٹ کے ذریعے تمام جاری منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر فزیکل پراگریس مانیٹر کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: والدین کی طرف سے بچے کے دل و ذہن میں راسخ کیے گئے ندامت کے احساسات بڑے ہونے پر ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید پختہ ہوئے ہوتے ہیں
مٹلتان سے مدین تک ٹرانسمیشن لائن منصوبہ
اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو آنے والے دنوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے کو آئندہ سال ٹائم فریم میں ہر صورت مکمل کرنے پر زور دیا اور صوبے کے سب سے بڑے منصوبے 300میگاواٹ بالاکوٹ پر بھی نوتعینات متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کو کام مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
پیڈو کے انتظامی امور کی شفافیت
اجلاس میں سیکرٹری توانائی نے پیڈوکے انتظامی امور کو مزید شفاف بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔








