صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ سے پاکستان میں تعینات اٹلی کی سفیر مریلینا آرمیلن کی قیادت میں وفد کی ملاقات
عدالت کے سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی اور وہ مالی بحران کا شکارتھیں: تحقیقات میں انکشاف
وکلا کی طرف سے دلائل
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی تاہم سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: قلات: دہشتگردوں کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی کوشش،6 دہشتگرد ہلاک،فائرنگ کے تبادلے میں7 جوان شہید
گرفتاری کا واقعہ
واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ، غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع
مقدمے کی تفصیلات
ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانت
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی.








