صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے ایران اور امریکہ کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے : وزیر خارجہ اسحاق ڈار
عدالت کے سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کچا ڈکیٹ گینگ کے 5 کارندوں نے چھینے گئے 100 جانوروں سمیت سرنڈر کردیا
وکلا کی طرف سے دلائل
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی تاہم سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
گرفتاری کا واقعہ
واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، 6 دنوں میں 2600 پولیس اہلکاروں کو ٹریفک چالان جاری
مقدمے کی تفصیلات
ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانت
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی.








