صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: شملہ معاہدہ، 1972 کا وہ معاہدہ جس نے بھارت پاکستان تعلقات کی بنیاد رکھی
عدالت کے سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے، زمبابوے کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
وکلا کی طرف سے دلائل
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی تاہم سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے اداکارہ منسا ملک کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، علیزے شاہ کا دعویٰ
گرفتاری کا واقعہ
واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹنگ خبروں کے بیچ چہل کی ہیٹرک! آر جے مہوش کا ردعمل وائرل ہوگیا
مقدمے کی تفصیلات
ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانت
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی.








