صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1963ء میں پنجاب یونیورسٹی کے تمام امتحانات میں انگریزی کے ساتھ اردو زبان کے استعمال کی بھی اجازت دیدی گئی۔ اس طرح ہماری تحریک کامیاب ہوئی۔
عدالت کے سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بینچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو جرمانہ کر دیا
وکلا کی طرف سے دلائل
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی تاہم سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل ٹیم کی قونصل جنرل آف پاکستان کے قونصل جنرل سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال
گرفتاری کا واقعہ
واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹ کا مقدمہ، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حیدر سعید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا
مقدمے کی تفصیلات
ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانت
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی.








