صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا 22 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
عدالت کے سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوکاڑہ میں واپڈا اہلکاروں کے مبینہ تشدد سے خاتون جاں بحق
وکلا کی طرف سے دلائل
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا کی تاہم سرکاری وکیل نے مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا نامکمل ایجنڈا آج پورا ہوگیا, اسحاق ڈار
گرفتاری کا واقعہ
واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
مقدمے کی تفصیلات
ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی اور ضمانت
ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی.








