قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان میں شدید تلخی کلامی
اجلاس میں تلخی
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخی کلامی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: اعتماد اور درست فیصلے ہی بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں، سلمان آغا
بات چیت کا آغاز
’’ جیو نیوز ‘‘ کے مطابق پلوشہ خان نے کہاکہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے جس پر عبد العلیم خان نے کہا کہ آپ عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت کریں گے، آپ لوگ ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کی تقریب میں تیز آواز میں گانے چلانے پر 12 افراد کو گرفتار کرلیا گیا
تناؤ کی شدت
عبد العلیم خان نے پلوشہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’شٹ اپ‘‘ جس پر پلوشہ خان نے کہا ’’یو شٹ اپ‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وکلا کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کروادی گئی
مباحثہ کی نوعیت
عبد العلیم خان نے کہا کہ سارے زمانے کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔
پلوشہ خان نے کمیٹی چیئر مین سے کہا کہ جو بدتمیزی وزیر نے کی ہے اس پر رولنگ دیں، کیا نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لینا جرم ہے، میں نے سوال پوچھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ
چیئرمین کا مداخلت
ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی۔
پرویز رشید کا کردار
اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاؤ کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔








