قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان میں شدید تلخی کلامی
اجلاس میں تلخی
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخی کلامی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی حدود بند ہونے کے باوجود ایئر انڈیا کی فلائٹ کی پاکستان میں پرواز، حقیقت کیا ہے؟
بات چیت کا آغاز
’’ جیو نیوز ‘‘ کے مطابق پلوشہ خان نے کہاکہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے جس پر عبد العلیم خان نے کہا کہ آپ عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت کریں گے، آپ لوگ ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرحد پر رہائش پذیر لوگوں کا واحد ذریعہ معاش باڈرز ٹریڈ ہے، صادق سنجرانی
تناؤ کی شدت
عبد العلیم خان نے پلوشہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’شٹ اپ‘‘ جس پر پلوشہ خان نے کہا ’’یو شٹ اپ‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دوست نہیں، کونسی معروف اداکارہ ابھیشیک اور ایشوریا کی شادی میں مدعو نہ ہونے پر سخت ناراض ہوئیں؟
مباحثہ کی نوعیت
عبد العلیم خان نے کہا کہ سارے زمانے کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔
پلوشہ خان نے کمیٹی چیئر مین سے کہا کہ جو بدتمیزی وزیر نے کی ہے اس پر رولنگ دیں، کیا نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لینا جرم ہے، میں نے سوال پوچھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ حج اسکیم 2026 کیلئے بکنگ کی تاریخ میں 22 اکتوبر تک توسیع کر دی۔
چیئرمین کا مداخلت
ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی۔
پرویز رشید کا کردار
اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاؤ کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔








