حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شہادت کیلئے بھی تیار ہوں، عمران خان
عمران خان کی ہدایت
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شہادت کیلئے بھی تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگ لائن پر بیک وقت کئی گاڑیاں دھل رہی ہوتی ہیں، ملازمین ہا ہا کار مچائے رکھتے ہیں، ایک کو دھو سنوار کر فارغ نہیں ہوتے کہ اگلی آن پہنچتی ہے
توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ
اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر وکلا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا "یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-"
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ رواں ماہ ہوگی، اراکین کو دعوت نامے ارسال
ذاتی حالات کی وضاحت
انہوں نے مزید کہا "مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔"
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جرمن ہم منصب سے ملاقات
عورتوں اور بچوں پر ظلم
عمران خان کا کہنا تھا "ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سیاست کے لیے اچھا نہیں: زرتاج گل
قانون کی بالادستی کا جنازہ
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا "پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔ قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔"
یہ بھی پڑھیں: میرے اوپر 51 ایف آئی آر ہیں، 2 مقدمات تب بنے جب جیل میں تھی: زرتاج گل
دفعہ 17 سال قید
عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان کی اہلیہ کو بھی اتنی ہی سزا دی گئی ہے۔ عمران خان نے اپنے وکیل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔"
عوامی جدوجہد کی ضرورت
انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کیلئے کہا "سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔“








