خواتین ہراسگی کیس: لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی محتسب کا فیصلہ درست قرار دیدیا
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے ایک اہم مقدمے میں صوبائی محتسب پنجاب کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کو نوکری سے نکالنے کا اقدام درست قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکسپو سٹی دبئی کے ایگزیبیشن سینٹر میں پاکستان کا 78 واں یوم آزادی دھوم دھام سے منایا گیا
ججز کا موقف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے عمر شہزاد کی درخواست پر 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ خواتین اکثر عزت، خاندانی وقار اور سماجی دباؤ کے باعث ہراسگی کے واقعات کا فوری اظہار نہیں کرتیں، تاہم اس خاموشی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر ان سے رپورٹ کرنے کا حق چھینا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی، برطانوی، فرانسیسی میڈیا اور ماہرین پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے معترف
ہراساں کرنے کی حدود
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کام کی جگہ پر ہراسگی کی حدود صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی افسر اپنے عہدے یا اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے خاتون کو دھمکائے یا ناجائز تعلقات پر مجبور کرے تو یہ بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت ختم کر دی گئی
شکایت کنندہ کی گواہی
عدالت کے مطابق شکایت کنندہ خاتون ٹیچر نے الزام عائد کیا کہ درخواست گزار اسے غلط نظروں سے دیکھتا، ناجائز تعلقات کیلئے پیغامات بھیجتا اور انکار پر نوکری ختم کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ خاتون کے مطابق ستمبر 2022 میں درخواست گزار اس کے گھر آیا اور زبردستی زیادتی کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل اور گیس کا ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت
مدعی کا دفاع
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ کام کی جگہ پر پیش نہیں آیا اور شکایت ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ الزامات اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتے ہیں، شکایت کنندہ کے کردار پر سوال اٹھانا درخواست گزار کے طرزِ عمل کو جواز فراہم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر وزیر شرجیل میمن نے کراچی سے متعلق رپورٹ کا جواب سندھ اسمبلی میں دیدیا
فوجداری کارروائی اور محتسب
عدالت نے یہ اعتراض بھی مسترد کر دیا کہ فوجداری کارروائی کی موجودگی میں محتسب کارروائی نہیں کر سکتا اور واضح کیا کہ محتسب پنجاب کا دائرہ کار نظم و ضبط سے متعلق ہے جبکہ فوجداری مقدمہ الگ عمل ہے۔
نتائج
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محتسب پنجاب اور گورنر کے فیصلوں میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں اور درخواست گزار کی نوکری بحالی کی استدعا مسترد کر دی۔








