بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف درخواستوں پر مزید دلائل طلب
لاہور ہائی کورٹ میں بلدیاتی ایکٹ 2025 کی سماعت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ طورجنات کے ہاتھوں اغوا خاتون کےکیس میں دم کرنے والے پیر کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سلطان تنویر نے کی۔ عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آفس نے خصوصی نوٹس کا جواب جمع کرایا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے شہریوں کی ایم اے جناح روڈ کی ابتر حالت پر طنزیہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا مؤقف
اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر سعد غازی نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں جس کے تحت امیدوار پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد 2 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچے گا
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس سلطان تنویر نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی فلور کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور وہاں سے کسی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے، آپ ہمارا احترام کریں، پاکستان کو آگے بڑھنا ہے اور اداروں کو سیکھنا چاہیے کہ باہمی احترام لازم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی پہلگام حملے کا ملبہ ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی کوشش ناکام ہو گئی
پارلیمنٹ کا اختیار
عدالت نے واضح کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور عدالت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلہ کرے گی۔ عدالت چاہتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہو جائے۔
درخواست گزاروں کے وکلا کا مؤقف
اس سے قبل درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں اس لیے عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے۔
بعدازاں، لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکلا کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








