ایسے بزدلانہ حملے مجھے خاموش کرنے کے بجائے مزید مضبوط کریں گے، حملے کے بعد شہزاد اکبر کا پہلا بیان سامنے آگیا
حملہ کا واقعہ
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ کل صبح تقریباً 8 بج کر 8 منٹ پر ان کے گھر میں ایک نامعلوم شخص نے ان پر حملہ کیا۔ حملہ آور نے تعمیراتی یا ویسٹ کلیکشن کا لباس پہن رکھا تھا اور اس نے سوال کیا “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” جس کے فوراً بعد اس نے تشدد شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا؛سینیٹ کا ضمنی الیکشن، مشال یوسفزئی 86ووٹ لے کر سینیٹر منتخب
طبی امداد اور پولیس کی کارروائی
شہزاد اکبر کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ایمرجنسی سروسز کو طلب کیا گیا اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں ان کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں، نیل پڑے اور ناک کی ہڈی فریکچر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور انہیں اور ان کے خاندان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ ایک ٹارگٹڈ حملہ ہے جس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور حملہ آور کے ساتھ ساتھ اس کے پیچھے موجود عناصر کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی
معلومات کی عدم دستیابی
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پولیس اور متعلقہ حکام کے مشورے پر وہ اس مرحلے پر مزید تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے جاری تفتیش متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں برطانوی قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے اور انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انگلینڈ کو ہر ایک کے لیے محفوظ رکھا جائے، بالخصوص اختلافی آواز رکھنے والوں کے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 اکتوبر کو عدالت آیا تو شدید بخار تھا، ریکور کرنے میں لمبا وقت لگا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
بزدلانہ حملے کا جواب
اپنے بیان میں شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ "اگر کسی کو میرے خیالات، سیاسی مؤقف یا حتیٰ کہ میرا چہرہ بھی پسند نہیں، تو ایسے بزدلانہ حملے مجھے خاموش کرنے کے بجائے مزید مضبوط کریں گے۔ تشدد نہ مجھے ڈرا سکتا ہے اور نہ ہی بولنے سے روک سکتا ہے۔ میں پاکستان میں کرپشن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔”
سوشل میڈیا پر بیان
Yesterday at approximately 8:08 a.m., I was attacked at my home by an unknown assailant dressed in what appeared to be construction or waste-collection attire. The individual asked, “Are you Shahzad Akbar?” and immediately began assaulting me. The incident occurred in the…
— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) December 25, 2025








