پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک نے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مسترد کر دیا
مسلم ممالک کا اسرائیل کے اقدام کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ سمیت 21 سے زائد مسلم ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ہنی ٹریپ کے ذریعے نابالغ بچوں کو پھانسنے والا ملزم گرفتار
وزارت خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں اردن، مصر، الجزائر، قطر، کویت، نائیجیریا اور فلسطین سمیت دیگر ممالک کے وزراء خارجہ نے اسرائیل کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ؛ نورمقدم کیس کی سماعت میں دوپہر ایک بجے تک وقفہ، عدالت کا آج ہی فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کا عندیہ
صومالیہ کی حاکمیت کی حمایت
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 26 دسمبر 2025 کو اسرائیل کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ غیر معمولی قدم ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش: پشاور کے صارفین کو درپیش چیلنجز
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی ملک کے حصے کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر سکے: ٹرمپ
علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی تحفظ
مسلم ممالک کے وزراء خارجہ کا موقف ہے کہ یہ عمل ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے عالمی اصولوں کے منافی ہے اور اسرائیل کے ’توسیع پسندانہ عزائم‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا: بلاول بھٹو زرداری
صومالیہ کی تقسیم کے خلاف موقف
اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت اور اس کے تمام علاقوں پر اس کی حاکمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور صومالیہ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو عالمی امن کے لیے ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم، پی ٹی آئی کے 2 سینیٹرز رابطے سے باہر ہو گئے
فلسطین کے حوالے سے بیانیہ
اس اعلامیے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے اس اقدام کا فلسطین کے تناظر میں جائزہ لینا ہے۔ مسلم ممالک نے اس خدشے اور امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کی اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کسی کوشش سے جڑا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا
جبری بے دخلی کے خلاف موقف
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس مشاورت کے بعد جاری ہونے والے اس دستاویزی احتجاج نے واضح کر دیا ہے کہ مسلم امہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور عالمی قوانین کی بالادستی کے لیے متحد ہے۔
امریکی صدر کا بیان
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو بطور ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فی الحال ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔
واضح رہے کہ امریکا کا اہم اتحادی ملک اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔








