پشاور: پولیس مقابلے میں انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرگینگ کے 5 کارندے سرغنہ سمیت ہلاک
پشاور میں پولیس مقابلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں پولیس کے ساتھ ایک مقابلے کے دوران پانچ کارندوں بشمول انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈین ہائی کمیشن کے زیرِ اہتمام میڈیا لٹریسی اور ڈیجیٹل ریزیلیئنس کے فروغ کے لیے سٹریٹجک ڈائیلاگ
گینگ کی منصوبہ بندی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلرز گینگ پولیس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ہلاک ہونے والے ملزمان پہلے بھی دو پولیس اہلکاروں کو شہید کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا
گینگ کے اعترافات
انہوں نے مزید کہا کہ گینگ کے سرغنہ نجمل الحسن نے ایک ویڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ یہ ٹارگٹ کلرز گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں 30 وارداتوں میں ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے 36 نئے تھانے قائم، جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی
قتل کی تعداد
سی سی پی او پشاور کے مطابق، ٹارگٹ کلرز پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں 17 افراد کے قتل میں شامل تھے۔ ہلاک ہونے والے ملزمان نے چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی ایک ایک شخص کو قتل کیا تھا۔
مزید متاثرین
میاں سعید نے بتایا کہ گینگ نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا، اور ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔








