معروف ادیب و معالج محمد حنیف شیوانی کے اعزاز میں ادبی نشست کا انعقاد، “زخمِ خنداں” کی تقریبِ رونمائی کی گئی
ادبی نشست کا انعقاد
دبئی (طاہر منیر طاہر) ادبی فورم پاکستان سوشل سینٹر شارجہ کے زیرِ اہتمام معروف ادیب و معالج ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کے اعزاز میں ایک پروقار ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے چیف گیسٹ اور صدرِ محفل معروف ادبی شخصیت اعجاز شاہین تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کہتے ہیں انگریز بہت دور کی سوچتا ہے، پْلوں کی تعمیر کا کام جاری ہی تھا کہ ریل گاڑیوں کی بوگیوں اور اسٹیم انجنوں کو ہندوستان پہنچانا شروع کردیا۔
کتاب کی رونمائی
یہ نشست ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی تازہ تصنیف “زخمِ خنداں” کی باقاعدہ تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں منعقد کی گئی، جس میں ادب دوست شخصیات، شعرا اور اہلِ قلم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کی تیاری زور و شور سے جاری۔ ’’ای بز ‘‘پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے 158 درخواستیں موصول
نظامت اور مہمانوں کا تعارف
تقریب کا انعقاد پاکستان سوشل سینٹر شارجہ کے صدر چوہدری خالد حسین اور ادبی فورم کی صدر ڈاکٹر رحمینہ کی موجودگی میں عمل میں آیا، جبکہ نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے صائمہ نقوی نے انجام دیے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گورنر زبیر عمر کو پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے گرین سگنل مل گیا
کتاب کی تنقید
پروگرام کا باقاعدہ آغاز صائمہ نقوی نے مہمانوں کے تعارف سے کیا۔ بعد ازاں سلیمان جاذب نائب صدر، ادبی فورم نے ڈاکٹر حنیف شیوانی کی کتاب “زخمِ خنداں” پر مفصل مضمون پڑھا اور اپنے خیالات و تبصرہ پیش کیا۔ صدرِ محفل اعجاز شاہین نے کتاب پر اپنا تنقیدی مضمون پیش کرتے ہوئے مصنف کی فکری گہرائی، مشاہداتی قوت اور اسلوب کی تعریف کی جبکہ ڈاکٹر رحمینہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر حنیف شیوانی کی ادبی خدمات کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: ناران کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا
شعری نشست کا آغاز
تقریب کے دوسرے حصے میں شعری نشست کا آغاز ہوا، جس میں سب سے پہلے نوجوان شاعر عدنان منور نے اپنا کلام پیش کیا۔ ان کے بعد بالترتیب سلیمان جاذب، شاداب الفت اور ظہیر مشتاق رانا اور آخر میں صاحب صدر اعجازِ شاہین نے اپنے کلام سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ تمام شعرا کو حاضرین کی جانب سے بھرپور داد اور تحسین حاصل ہوئی۔
نتیجہ
یہ ادبی نشست فکری مکالمے، معیاری ادب اور خوشگوار ادبی فضا کا حسین امتزاج ثابت ہوئی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔








