حکومت پنجاب کا نفرت پھیلانے والوں کے لیے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ
پنجاب حکومت کی نئی پالیسی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ داخلہ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ اعزازیہ صرف ذمہ دار اور قانون کے پابند علماء کو دیا جائے گا۔ نفرت پھیلانے والوں کے لیے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں اعلیٰ سطحی اجلاس، منگورہ شہر میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اہم ہدایات جاری
پالیسی کی منظوری
پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کی تجاویز پر نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرنے والے افراد کے اعزازیے فوری طور پر بند کر دیے جائیں گے اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں گورنر کی رہائش گاہ کو آگ لگا دی گئی،گورنر اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے،ایک مشتبہ شخص گرفتار
امن اور ہم آہنگی کا فروغ
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ داخلہ نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ اعزازیہ اسکیم کا مقصد امن، ہم آہنگی اور قومی وحدت کو فروغ دینا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی، اور نفرت انگیز مواد یا تقاریر کی صورت میں فہرست سے فوری اخراج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ، ریسکیو آپریشن مکمل، ہلاکتیں 27 ہوگئیں
امام مسجد کی جانچ
سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کی جا چکی ہے۔ صوبے کے 66 ہزار امام مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پر کلیئر قرار دیے گئے ہیں، اور ان کے خلاف کوئی ریاست مخالف سرگرمی ثابت نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا قلات میں 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین
اسکریننگ اور مانیٹرنگ
اعزازیہ فہرست کی باقاعدہ اسکریننگ اور مانیٹرنگ جاری رہے گی۔ مستقبل میں اعزازیہ دینے سے پہلے سخت جانچ پڑتال کی جائے گی، اور امن عامہ متاثر کرنے والے عناصر کو ریاستی سرپرستی فراہم نہیں کی جائے گی۔
انتہا پسندی کے خلاف مؤقف
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کا انتہا پسندی کے خلاف سخت مؤقف ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ناگزیر سمجھا گیا ہے، اور اعزازیہ اسکیم کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون کے دائرے میں رہ کر مذہبی سرگرمیوں کی مکمل آزادی برقرار رہے گی۔ ریاست مخالف بیانیے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، جو کہ ایک واضح پالیسی بیان ہے۔








