پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، وہیں دہشتگردوں کیخلاف اقدامات پر سیاست ہو رہی ہے، طارق فضل چوہدری
وزیر پارلیمانی امور کا بیان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پختونخوا نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، افسوس ہے کہ وہیں دہشتگردوں کیخلاف اقدامات پر سیاست ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کی کہانی: خاموشی کا دور ختم ہوگا
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں
اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی مخالفت دراصل دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور سب سے زیادہ تباہی دیکھی، لیکن افسوس کہ آج اسی صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ریاستی اقدامات پر سیاست کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون کو بھارت روانہ کیوں نہ کیا جا سکا؟ وجہ سامنے آ گئی
اقتدار کی سیاست بمقابلہ قومی سلامتی
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آپریشنز کی مخالفت نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست قومی سلامتی سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ جن عناصر نے مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، ان کے خلاف کارروائی پر ابہام پیدا کرنا شہدا کے خون سے ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ٹک ٹاکر کی نازیبا ویڈیو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر نہ کریں ، اداکارہ مشی خان کا مشورہ
قربانیوں کی حقیقت
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں جوانوں نے اس وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور خاندان کے خاندان اجڑ گئے، یہ سب قربانیاں کسی سیاسی بیانیے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ مستقبل کے لیے دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت آج نہیں ہو سکے گی
تحریک طالبان پاکستان کی حقیقت
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کوئی ناراض فریق نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، جس کے ہاتھ ہزاروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں دو ٹوک مؤقف کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرنا اور ریاستی کارروائیوں کی مخالفت کرنا دراصل ان قربانیوں کی توہین ہے جو ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں نے دیں۔
ریاست کا فرض
انہوں نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے اور افواجِ پاکستان یہی آئینی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کنفیوژن نہیں بلکہ قومی یکجہتی درکار ہے، سیاست اپنی جگہ مگر ریاست، سلامتی اور شہدا کی قربانیاں ہر چیز سے بالاتر ہونی چاہییں۔








