اسمارٹ میٹر منصوبے میں 6.5 ارب روپے کی کرپشن، لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو ریکارڈ فراہم کر دیا
اسلام آباد میں اسمارٹ میٹر منصوبے کی تحقیقات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسمارٹ میٹر منصوبے میں مبینہ طور پر ساڑھے چھ ارب روپے کی کرپشن کے معاملے پر ایف آئی اے کی تحقیقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دھرنادھرنا کھیل رہا ہے اور مریم نواز لوگوں کو گھر اور مفت پلاٹس دے رہی ہیں:عظمیٰ بخاری
غیرقانونی ٹھیکوں کی تحقیقات
نجی ٹی وی سماء کے مطابق ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات غیرقانونی ٹھیکوں، جعلی دستاویزات اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے گرد گھوم رہی ہیں۔ الزام ہے کہ تحلیل شدہ کمپنیوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مزید کمی
ایف آئی اے کی پوچھ گچھ
ایف آئی اے نے لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو کے افسران سے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جبکہ ہر افسر سے 20، 20 سوالات کے تحریری جوابات بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فوجی عدالتوں کا فیصلہ غیر آئینی، عمران خان کو ملٹری کورٹس میں پیش کرنے کا منصوبہ ہے: پی ٹی آئی
ریکارڈ کی ضبطی
ایف آئی اے نے 7 اپریل 2025 کے بعد دیے گئے تمام ٹھیکوں اور ٹینڈرز کا جزوی ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ٹھیکے دینے کے عمل میں لیسکو کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
مالی نقصانات کا شک
ذرائع کے مطابق اسمارٹ میٹر منصوبے میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا شبہ ہے، جبکہ لیسکو پر نئے اسمارٹ میٹرز کی خریداری میں پیپرا قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں。








