امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن افسر کے ہاتھوں قتل کی جانے والی خاتون کے حق میں مظاہرے شروع ہو گئے
مظاہرے برائے নিহত خاتون
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن افسر کے ہاتھوں قتل کی جانے والی خاتون کے حق میں مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ جنوبی افریقہ، بڑے کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں واپسی کا امکان
مظاہروں کی جگہیں
مظاہرین نے مینیاپولس، نیویارک اور لاس اینجلس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے۔ کشیدہ صورتحال میں ہوم لینڈ سکیورٹی نے مزید اہلکار مینیاپولس بھیج دیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورنے کالاباغ ڈیم کے بعد ملک میں صدارتی نظام کی حمایت کردی
نائب صدر کا بیان
اس حوالے سے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ برین واش خاتون اپنے ہی ہاتھوں پیدا سانحہ کا شکار ہوئی، آئس ایجنٹ جوناتھن راس کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور ایئرپورٹ سے غزہ کے عوام کیلئے امدادی سامان روانہ کیا
جوناتھن راس کی حالت
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوناتھن راس غیر قانونی امیگرینٹ کو جون میں گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران زخمی ہوا تھا۔
امریکی حکام کی کارروائی
واضح رہے کہ امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں چھاپے کے دوران خاتون کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔








