پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے کا پولیس کو بھیجا گیا جواب سامنے آگیا
ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ قتل کیس: ایف آئی اے کا جواب
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے کا پولیس کو بھیجا گیا جواب سامنے آگیا، کیس کے ملزمان کا ایف آئی اے میں کوئی مالی یا سائبر کرائم ریکارڈ نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں 6 ماہ کے دوران بینکوں کے اثاثے 11 فیصد تک بڑھ گئے
ملزمان کا مالی جرائم کا ریکارڈ
روزنامہ جنگ کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کے ملزمان کا منی لانڈرنگ یا مالی جرائم کا کوئی ریکارڈ نہیں، ملزمان کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا انکوائری بھی زیرِ التوا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کے رکتے ہی انجن علیٰحدہ ہو کر کسی روٹھے محبوب کی طرح پلیٹ فارم سے نکل کر دور کہیں دھند میں گم ہو جاتا ہے، اتنا دور کہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔
خفیہ معلومات کی عدم دستیابی
ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملزمان سے متعلق کوئی خفیہ یا انٹیلی جنس معلومات دستیاب نہیں۔ سفری ریکارڈ، واچ یا سٹاپ لسٹ کے لیے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر سے رجوع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جب یہ سمجھیں کہ آپ دوسروں کی مرضی اور خواہش کے مطابق مؤقف اختیار کر رہے ہیں تو فوراً اس روئیے کی اصلاح کریں اور نیا و مختلف رویہ اپنائیں
پولیس کی درخواست
واضح رہے کہ ڈی پی او ایبٹ آباد نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے کو خط لکھا تھا۔ پولیس نے نامزد ملزمان عبدالوحید، ندیم اور ردا جدون کی مالی تفصیلات طلب کی تھیں۔
مشکوک مالی لین دین کی جانچ
پولیس نے ممکنہ مشکوک مالی لین دین، سفری تفصیلات اور واچ لسٹ سٹیٹس مانگا تھا۔








