ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا تحریری حکم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ایم آر آئی مشین میں کھنچے جانے سے آدمی کی موت
عدلیہ کی ساکھ کی حفاظت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں ملوث پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کشیدہ صورتحال، علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر کرم کیلئے ہیلی کاپٹر سروس شروع
درخواست کا پس منظر
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء ناجوہ نے پرویز الہیٰ ایڈووکیٹ کی درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں جنہوں نے بتایا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کےلیے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی میں منتخب ارکان کی حلف برداری نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر کا عدالت جانے کا اعلان
سالانہ کارروائی کی اہمیت
درخواست گزار کے مطابق اس اہم معاملے پر کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نقاط اہم نوعیت کے ہیں، لہذا درخواست ریگولر کارروائی کےلیے منظور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع
قانونی تحفظات
کسی انفرادی شخص کو حق نہیں کہ آزاد اظہار کے نام پر عدلیہ کو سکینڈلائز کرے۔ قانون ایسے کرداروں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔ آئین میں عدلیہ کے احترام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم ٹرافی کا 26 اکتوبر سے آغاز ہوگا، ٹورنامنٹ میں سولہ ریجنز کی اٹھارہ ٹیمیں حصہ لیں گی
متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے میں ملوث تمام افراد کی نشاہدہی کرکے رپورٹ فائل کریں۔ آئندہ سماعت پر پیش ہو کر بتائیں کہ سائبر پولیس نے کارروائی کیوں نہ کی۔ چیئرمین پی ٹی اے بھی آئندہ سماعت پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
آئندہ کی کارروائی
تحریری حکم میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کی سپورٹ نہیں کرتی ہے۔ درخواست پر مزید کارروائی پندرہ جنوری کو ہوگی.








