لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے معمولی جھگڑے پر شہری کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی ایکس چینج کے ذریعے اربوں روپے کا فریب کرنے والے قانون کے شکنجے میں
اپیل کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل پر فیصلہ سنایا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں مجرم الفت کو سزائے موت سنائی تھی تاہم عدالت نے چار سال بعد مجرم الفت کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اگلے انجیکشن کے لیے 25 فروری کو اسپتال منتقل کیا جائے گا، طارق فضل چودھری
عدالت کی سماعت
سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ چوہدری ولایت علی نے دلائل پیش کیے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں متعدد نقائص پائے جاتے ہیں اور پراسیکیوشن وقوعہ کی رپورٹ میں تاخیر پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں گرے ہوئے پیسے ملنے کے بعد دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی، اسپیکر حیران
واقعہ کی تحقیقات
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ کیا گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق گولی لگنے کے بعد زخمی کو موٹر سائیکل پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم نہ تو موٹر سائیکل اور نہ ہی ہسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جبکہ واقعے کے نو گھنٹے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا جو کیس پر سوالیہ نشان ہے۔
آخری فیصلہ
مزید برآں عدالت نے ان وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا، ملزم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔








